قوانین پرموثرعمل درآمد سے خواتین پرتشدد کاخاتمہ ممکن ہے، مقررین کا لیگل رائیٹس فورم کے سیمینار میں خطاب

0

کراچی(ای این این)موجودہ قوانین کے بہتر استعمال سے خواتین کے خلاف تشدد میں کمی لائی جا سکتی ہے، اور اس حوالے سے پولیس کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ان خیالات کا اظہارپولیس افسران، قانونی ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے لیگل رائیٹس فورم کی جانب سے منعقد کردہ سیمینار سے خظاب کے دوران کیا۔

اس موقع پر سابق آئی جی سندھ نیاز احمد صدیقی کا کہنا تھا کہ محکمہ پولیس میں اصلاحات لاکر خواتین پر جاری تشدد میں کمی لائی جاسکتی ہے، اور اس حوالے سے محکمہ کے اندر خواتین کو باختیار بنا کر کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ میں موجود افسران کی بہتر تربیت سے ان کے رویوں میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پولیس کے نظام میں بہتری کے لیے اچھا نصاب ترتیب دے دیا ہے اب اس پر عمل درآمد کی شروعات ہو چکی ہے، جس دوررس نتائج نکلینگے۔

Mahnaz Rehman addressing the seminar

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے معاشرے میں  برداشت کم اور سننے کی صلاحیت نہیں، لہٰذا جب سنینگے نہیں تو سمجھینگے نہیں اور جب سمجھ نہ پائے تو عمل کیسے کرینگے۔

ایس ایس پی ضلع شرقی کراچی کیپٹن (ر) اظفر مہیسر نے اپنے خطاب میں کہا کہ جب انہوں نے سندھ دیہی ضلع خیرپور میرس میں ایک عورت افسر کو ایس ایچ او تعینات کیا تو لوگ حیران ہوکر اس پر اعتراض اٹھانے لگے لیکن میں نے کہا کہ یے بھی افسر ہیں اور اس طرح کی ڈیوٹی کرسکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ خواتین پر تشدد کے واقعات میں 50 فیصد سے زائد کیسز میں اپنے ہی قریبی رشتیدار شامل ہوتے ہیں، جو کہ افسوسناک ہے، لہٰذا ہمیں اپنے آپ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ لوگوں کو آگہی کے ساتھ ان کے ذہن تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے بتایہ کہ پولیس میں ایک ہزار انسپیکٹرس بھرتے کرنے کا عمل شروع ہو گیا ہے جن کےپاس قانون کی ڈگری ہوگی اور اپنے افسران کو نئے قوانین اور خاص طور خواتین سے متعلق قوانین پر آگہی دینگے۔

اس موقع پر لیگل رائیٹس فورم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ملک طاہر اقبال، عورت فائونڈیشن کی مہناز رحمٰن، شارق احمد، منظور احمد، فوزیہ طارق، انسپیکٹر خرم اعوان و دیگر کا کہنا تھا کہ خواتین پر تشدد کے خاتمے کے حوالے سے پولیس کا کرادار انتہائی اہم ہے اس لیے اس پر دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو حقوق عزت کے ساتھ دینے سے مسائل حل ہونگے اور خواتین ایک بہتر شہری کے طور پر اپنا کردار ادا کرسکینگی۔

مقررین نے تجویز دی کہ ر تھانےہ کی سطح پر خواتین کے لیے مددگار ڈیسک قائم کیے جائیں، تاکہ وہ آسانی سے اپنے مسائل بیان کرسکیں۔ اس تقریب کے اختمام پر خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے حوالے ایک تھیٹر بھی پیش کیا گیا۔

About Author

Leave A Reply