عوام ناچنا چھوڑ دیں! سدھیر احمد آفریدی

0

پاکستان میں مشکلات بڑھ رہی ہیں ہر سطح پر ایک گہری تقسیم دکھائی دیتی ہے کسی ادارے اور شخصیات کو ایک دوسرے پر اعتماد باقی نہیں رہا پاکستان کے عام لوگ غربت، بے روزگاری، ہوشربا مہنگائی،عدم مساوات، انصاف کے فقدان، لاقانونیت اور امن و امان کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر پریشان حال ہیں 1947 سے اب تک پاکستان پر کبھی فوجی آمروں نے مارشل لاء لگا کر بلا شرکت غیرے حکومت کی ہے جنہوں نے آئین پاکستان کو محض کاغذ کا ٹکڑا سمجھ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا اور کبھی جمہوریت، سول اور عوامی بالادستی کے نام پر نام نہاد سیاسی جماعتوں نے اقتدار ہاتھوں میں لیکر آئین، قانون، پارلیمنٹ اور عوامی حقوق کو پس پشت ڈال کر کرپشن، بدعنوانی اور نااہلی کی وہ داستانیں رقم کی ہیں جنہیں سن اور پڑھ کر ہر محب وطن پاکستانی کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ہماری عدلیہ کا رول بھی آئین کے تحت اور سائلین کو تیز اور سستا انصاف فراہم کرنے کے حوالے سے مثالی نہیں رہا ہے اور آج اگر مبینہ طور پر لاکھوں مقدمات زیر التوا رہ کر حل طلب ہیں تو یہ عدلیہ کے کردار پر سوالیہ نشان ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ ہماری عدلیہ مراعات اور سہولیات کے حساب سے دنیا کی ٹاپ ٹین میں شمار ہوتی ہے تاہم انصاف کی فراہمی اور شفاف کردار ادا کرنے کا معیار ہماری عدلیہ کو بین الاقوامی سروے کے مطابق ایک سو تیسویں نمبر پر کھڑا کرتا ہے جو کہ ایک مسلم ملک کے مسلمان ججوں کے لئے لمحہ فکر ہونا چاہیئے اور یہی وجہ ہے کہ آج سوشل میڈیا کے اندر عدلیہ پر عام لوگوں اور مختلف متحارب سیاسی جماعتوں کے قائدین کی طرف سے تنقید ہوتی ہے کہنے کا مطلب ہے کہ جن اداروں اور محکموں کا کام عوام کو انصاف،سہولیات،ترقی اور خوشحالی دینا ہے وہ اپنے اپنے دائروں کے اندر فلاپ ہو چکے ہیں ایکدوسرے پر الزامات لگا کر کوئی بری الزمہ نہیں ہو سکتا ملک کے اوپر بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے قرضے بڑھتے جا رہے ہیں اور سارے سٹیک ہولڈرز قرضوں کے اس کھیل میں شریک اس لئے ہیں کہ قرضے تو لئے گئے ہیں تاہم یہ کسی نے پوچھا ہی نہیں کہ قرضوں سے کونسے مقاصد حاصل کئے گئے اور کونسے فوائد حاصل ہوئے اور اگر ایک ہاتھ سے سود پر بھیک مانگ کر قرضے لئے گئے ہیں اور دوسرے ہاتھ سے وہ ساری رقم بیرون ملک اپنے بینکوں کے اکاؤنٹس میں جمع کروائی گئی ہے تو یہ کھیل بہت ہو چکا ہے اور اس کا انجام آج ملک کے دیوالیہ ہونے کی صورت میں دیکھ رہے ہیں آج اگر ملک کے اندر بے روزگاری بڑھ رہی ہے، کرپشن بڑھ رہی ہے،غربت اور مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے تو یہ سب کچھ حکمرانوں کی بداعمالیوں، نااہلیوں اور بدعنوانیوں کا نتیجہ ہے جس میں وہ سارے لوگ شریک ہیں جنہوں نے اس ملک پر حکمرانی کی ہے مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اقتدار کے اس کھیل میں حصہ دار مداری مختلف نت نئے طریقے اپلائی کرکے غریب اور مجبور پاکستانیوں کا خون چوسنے اور گوشت کھانے کے بعد اب ان کی ہڈیوں کو بھی کھانے کے درپے ہیں لیکن یہ بے وقوف لوگ نہیں سمجھتے اور آج بھی ان سیاسی مداریوں کے جلسوں میں شریک ہوتے ہیں۔مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کے مارے لوگ ان چوروں اور ڈاکوؤں کو اپنے کندھوں پر سوار کرکے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچاتے ہیں اگر عوام اسی طرح ان مداریوں کے آگے ناچتے رہے تو پھر انجام تو یہی ہوگا جو آج ہے اور یہ بھی المیہ ہے کہ پاکستانی عوام سب کچھ سمجھتے ہوئے بھی بار بار دھوکہ کھاتے ہیں اور انہی کرپٹ اور نااہل امیدواروں اور قائدین کو ووٹ دیکر سپورٹ کرتے ہیں تو جب آپ سانپ کو دودھ دیکر اژدھا بنائیں گے تو وہ پھر آپ ہی کو نہیں کھائیں گے تو کیا کرینگے عوام ہر جلسے میں ناچتے رہینگے تو ان کے مسائل کم نہیں ہونگے بلکہ بڑھیں گے اور ملک عدم استحکام سے دوچار ہوگا ناچنے والے پاکستانیوں سن لو ان چند سیاسی جماعتوں کو باری باری اقتدار تک پہنچا کر آپ نے بھی اس تباہی میں اپنا حصہ ڈالا ہوا ہے اور آج حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے قرضے ادا کرنے کے لئے ہمارے حکمران قومی اثاثوں کو اونے پونے داموں بیچنے کے چکر میں ہیں لیکن یاد رکھیں پھر بھی ان نااہلوں اور غیروں کے غلاموں کی موجودگی میں اس ملک کو بھنور سے نکالنا ممکن نہیں اور نہ ہی یہ لوگ عوامی مسائل حل کرنے میں کوئی دلچسپی رکھتے ہیں اب تو سننے میں آرہا ہے کہ اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی بھی نجکاری ہونے والی ہے اگر قومی اثاثے بیچ کر اور باقی کی نجکاری کرکے یہ نااہل سیاسی جھتے ہمارے اوپر حکمرانی کرینگے تو پھر ان کے سامنے ناچنے سے عوام کو کیا فائدہ ملیگا لوگ تقسیم ہونگے تو مشکلات سے مزید دوچار ہونگے مہنگائی، بےروزگاری اور غربت کسی ایک جماعت اور پارٹی کے لوگوں کو متاثر نہیں کر رہی بلکہ پوری پاکستانی قوم ان بلاووں کے سامنے بے بس کھڑی ہے آئیے سب ملکر کر ان خائینوں سے توبہ تائب ہو کر کسی متبادل پر سوچیں ان ظالموں کے خلاف جتنی دیر سے اٹھیں گے اتنی ہی زیادہ مصیبتوں کے شکار رہینگ غریب اور مجبور لوگوں کو اپنے مسائل کے حل کے لئے منظم اور متحد ہونا چاہئے اور مزید ان آزمائے ہوئے چہروں کو سپورٹ کرنے سے دور اور خاموش رہیں کسی سیاسی پارٹی کو سوشل میڈیا پر بھی سپورٹ نہ کریں بلکہ سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی مشکلات بیان کریں اور جہاں تمہیں کسی غلطی اور کمزوری کا یقین ہو جائے اس کو بلا خوف تردید پوسٹ کریں تاکہ قوم کو شعور دیا جا سکے ان ظالموں نے پہلے قوم کو تقسیم اور برباد کر دیا اب ملکی سلامتی کے درپے ہیں یہ ہمارے قائدین نہیں بلکہ غیروں کے غلام اور آلہ کار ہیں ان سے نجات حاصل کرکے ہی قوم سکھ اور سکون حاصل کر سکتی ہے۔

About Author

Leave A Reply