عرفان جتوئی کی گمشدگی و مبینہ مقابلے میں قتل پر عدالت نے پولیس سے 7 اپریل تک جواب طلب کرلیا

0

کراچی(ای این این ایس) سندھ ہائیکورٹ میں مبینہ پولیس مقابلے میں جاں بحق سندھ یونیورسٹی کے طالب علم عرفان جتوئی کی گمشدگی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔

 مبینہ پولیس مقابلے مارے جانے والے عرفان جتوئی کے اہلخانہ نے قتل سے قبل سندھ ہائیکورٹ میں گمشدگی سے متعلق درخواست دائر کی تھی۔

سندھ پولیس نے عرفان جتوئی کو جامشورو سے اٹھاکر سکھر میں انکاؤنٹر کرنے کا اعتراف کر لیا۔ ایس ایچ او شاہ لطیف ٹاون محمد علی شاہ نے رپورٹ عدالت میں جمع کرادی۔

عدالت نے درخواست گزار کی جانب سے پیش کردہ دستاویزات پر پولیس سے جواب الجواب طلب کرلیا۔

عدالت نے عرفان جتوئی کے متعلق پولیس کی جانب سے انکوائری کے متعلق بھی پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔

عرفان جتوئی کو مقابلے سے پہلے حراست میں لیا گیا اس کے بعد میں سکھرمقابلہ ظاہر کیا، وکیل درخواست گذار ظفر شاہ

پولیس جس کا چاہے انکاؤنٹر کر دیتی ہے، بیگناہ شہری کو قتل کیا گیا ہے، وکیل درخوستگزار

عرفان جتوئی کے خلاف مختلف تھانوں میں 28 مقدمات درج ہیں، ایس ایچ او شاہ لطیف

عرفان جتوئی جامشورو سے لاپتا ہوا تھا، پولیس کا عدالت میں بیان

پولیس مقابلہ کہاں ہوا تھا؟ عدالت کا پولیس سےاستفسار

عرفان جتوئی سے پولیس مقابلہ تھانہ جھانگرو کی حدود میں ہواتھا، پولیس

پولیس مقابلے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کیا کوئی انکوائری کی جارہی ہے؟ عدالت کا استفسار

جعلی پولیس مقابلے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف انکوائری نہیں ہو رہی، وکیل درخواست گزار

عرفان جتوئی ضمانت پر تھا، لیکن اس کے باوجود حراست میں لے کر قتل کردیا گیا، وکیل درخواست گزار

درخواست گذار کے وکیل نے عدالت میں دستاویزات پیش کردیں۔

عدالت نے پولیس سے 7 اپریل تک جواب طلب کرلیا۔

عرفان جتوئی کے لاپتا ہونے سے متعلق جان محمد نے 19 فروری کو سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

About Author

Leave A Reply