عرب ممالک میں بادشاہت اورآمریت نے اسرائیل کو تسلیم کیا، کشمیر پرفکرمند ہونے کی ضرورت ہے: مولانہ فضل الرحمٰن

0

اسلام آباد(ای این این)جمعیت علما ء اسلام ف کے سربراہ مولانافضل الرحمٰن نے 2فروری کومسئلہ کشمیرپرآل پارٹیزکانفرنس طلب کرتے ہوئے کہاہے کہ کشمیر پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی نقطہ ہوتا تھا،موجودہ پارلیمانی قائد کی پہلی تقریر سے کشمیر کاذکرغائب تھا،فلسطین پر اسرائیلی قبضہ کو تسلیم کرلیا تو کشمیر پر بھارتی قبضہ کے موقف کا کیا بنے گا۔ان خیالات کااظہارانہوں نے انصارالامہ اورجمعیت علماء اسلام کے زیراہتمام معروف سیاسی وسماجی شخصیت سردارعبدالباسط  کی یادمیں منعقدہ تعزیتی ریفرنس اورکشمیرکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

 کانفرنس سے انصارالامہ پاکستان کے سربراہ مولانافضل الرحمن خلیل،جمعیت علماء اسلام جموں وکشمیرکے امیرمولاناسعیدیوسف،متحدہ جہادکونسل کے سیکرٹری جنرل شیخ جمیل الرحمٰن ،انصارالامہ کے سرپرست مولانافاروق کشمیری،حریت کانفرنس کے رہنماء یوسف نسیم، جمعیت علماء اسلام جموں وکشمیرکے سیکرٹری جنرل مولاناامتیازعباسی، مولانانذیرفاروقی،تحریک غلبہ اسلام کے امیرمولاناعبداللہ شاہ مظہر،مولاناادریس حقانی،مولاناسجادشاہد،مولاناعبدالرحمٰن معاویہ، مولاناسلطان محمود ضیاء،منظوربٹ، قاری سہیل احمدعباسی،مولانامقصودعثمانی ودیگرنے بھی خطاب کیا۔

 مولانا فضل الرحمٰن نے خطاب کرتے ہوئے مزید کہاکہ کشمیریوں کی جدوجہد اورمستقبل کیلئے فکرمند ہونے کی ضرورت ہے،سوویت یونین کے خاتمہ کے بعد اسلامی دنیا نشانہ پر ہے،پاکستان کی نظریاتی شناخت کو ختم کیا جارہا ہے،سیکولر لبرل پاکستان بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔  ان کا کہنا تھا کہ عرب ممالک میں بادشاہت ہے اور آمریت نے اسرائیل کو تسلیم کیاآج ترکوں سے پوچھیں کہ ان کے ساتھ کیاہورہاہے۔

About Author

Leave A Reply