صحتمند زندگی کی تلاش: ملتان میں گذشتہ سال 15 ہزار سے زائد افراد اسپتالوں میں زندگی کی بازی ہار گئے

0

سدرہ اشرف

تندرستی ہزار نعمت ہے! اس فقرے کا  اندازہ ان لوگوں کو ہے جن کے گھر کی خوشیوں کو کسی مہلک بیماری نے گھیر لیا ہے اور ان کا اپنا پیارا کوئی مریض ہے۔ کہتے ہیں تندرست و توانا جسم ہی توانا ذہن کو تعمیر کرتا ہے مگر ہمارے معاشرے میں صحت کے شعبے میں  بہتری نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں تبدیلی صحت مند معاشرے کا خواب کوسوں دور ہوتا نظر آتا ہے ، ہسپتالوں کی حالت زار یہ ہے کہ جو ایک بار ہسپتال سے آتا ہے تو وہ یہ ہی دعا مانگتا  ہے کہ یا اللہ ہسپتال کا منہ تو کسی دشمن کہ بھی نہ دکھانا ۔

جنوبی پنجاب کا مرکزی شہر اور صوفیاء و اولیاء کرام کی دھرتی ملتان میں بھی صحت کے شعبے کی حالت تسلی بخش نہیں ہے۔سال 2018 کے دوران ملتان سمیت جنوبی پنجاب میں شعبہ صحت پر نظر دوڑائی جائے تو پورا خطہ صحت کی بنیادی و جدید سہولیات سے محروم رہا ہے ۔

گذشتہ برس  ملتان اور جنوبی پنجاب کے عوام کو حکومتی اعلانات کے باوجود صحت کی سہولیات، ڈاکٹرز اور دیگر سٹاف مطلوبہ تعداد میں مہیا نہیں کئے جاسکے۔ 4 سال قبل نشتر ہسپتال کے توسیعی منصوبے کا نوٹیفکیشن جاری ہوا تھا لیکن سال کے دوران نشتر کی توسیع کے  عملی اقدامات نہیں کیے جا سکے نہ ہی ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرا میڈیکل سٹاف کی تعداد میں اضافہ کیا گیا۔ نشتر توسیعی منصوبہ کے تحت مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو مدنظر رکھتے ہو ئے بستروں کی تعداد 1100 سے بڑھا کر 1700 کرنے اور سٹاف کی تعداد میں اضافہ کیا جانا تھا جو 2018ء میں بھی ممکن نہیں بنایا جا سکا۔ اسی طرح ٹیسٹنگ لیبارٹریز اور مشینوں کی صورتحال بھی ابتر رہی جس سے مریضوں کو ای سی جی، ایکو، ڈائیلیسسز، ایم آر آئی سمیت کئی ٹیسٹوں اور آپریشنوں کیلئے 2 سے 5 ماہ کا وقت دیا گیا جس کے باعث متعدد مریض جان کی بازی ہار گئے ۔

سال 2018 کے دوران نشتر میں 5 لاکھ 24 ہزار مریضوں کو  داخل کرکے ان کا علاج معالجہ کیا گیا جن میں سے 15 ہزار 458 سے زائد مریض جاں بحق ہوئے نشتر میں روزانہ اوسطا اموات کی تعداد 46 بنتی  ہے ۔حکومت پنجاب کی جا نب سے زچہ وبچہ کی صحت کے دعوے بھی دھرے رہ گئے جس کا منہ بولتا ثبوت ماؤں کا بے سرو سامانی کی حالت میں ہسپتالوں کے باہر بچوں کو جنم دینے کے واقعات ہیں اسی طرح حکومت پنجاب کی جانب سے نشتر میڈیکل کا لج کو  میڈیکل یونیورسٹی کا درجہ تو دے دیا گیا لیکن نہ تو نظام کو اپ گریڈ کیا گیا اور نہ ہی یونیورسٹی کی طلب کے مطابق سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی گئی اورنشترمیڈیکل یونیورسٹی کے کئی شعبے ٹیچنگ سٹاف سے محروم رہے جبکہ وائس چانسلر کی بار بار تبدیلی کا عمل بھی دیکھنے میں آیا۔

سول ہسپتال،شہباز شریف جنرل ہسپتال، فاطمہ جناح ہسپتال کو ملا کر شہباز شریف ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرہسپتال کا درجہ دیا گیا لیکن مریضوں کی مشکلات میں خاطر خواہ کمی واقع نہیں ہو سکی اور مریض مسائل کا شکار رہے۔ چلڈرن ہسپتال کی توسیع مکمل کر کے نئے بلاک کو فعال کیا گیا لیکن مسائل میں کمی نہیں لائی جاسکی ۔

کڈنی سنٹر اور ریجنل بلڈ ٹرانسفیوژن سنٹر پرائیویٹ ہونے کے بعد عوام کو سہولیات دینے میں ناکام رہے۔ شہباز شریف جنرل ہسپتال کو 100بستروں کے اعلان کے مطابق فعال نہیں کیا جا سکا۔ کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹ کی توسیع، نشتر کینسر ٹریٹمنٹ سنٹر کا منصوبہ سست روی سے دوچار رہا۔ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے چھاپوں کے باوجود ملتان سمیت جنوبی پنجاب میں عطائیت کو ختم نہیں کیا جا سکا ہے اور کئی شہری غلط علاج کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور کئی معذور ہو گئے۔ جنوبی پنجاب  کے ہسپتالوں اور خصوصاً نشتر ہسپتال میں ادویات کی قلت ،چوری، جعلی ادویات کی فروخت عام رہی اور ہسپتالوں میں ادویات کی فراہمی کے باوجود مریضوں کا بازار سے ادویات لانا معمول رہا ہے

نشتر ہسپتال میں کرپشن کی داستانیں بھی زبان زد عام رہیں جس میں نشتر ہسپتال کے ایک ایم ایس کو کرپشن اور ادویات فنڈز کی خورد برد پر ہٹائے جانے اور نیب و اینٹی کرپشن میں انکوائریوں کے باوجود نئی پنجاب حکومت کی جانب سے دوبارہ سیاسی دباؤ پر تعینات کیا گیا جبکہ درمیانی عرصہ میں سابق  پنجاب حکومت کے منظور نظر ایم ایس نے دوران تعیناتی ریکارڈ بھرتیوں کے ذریعے کروڑوں روپے کما لئے اور نیب تاحال انکوائری جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ محکمہ صحت کے اعلیٰ افسر کو سابق حکومت میں غیر قانونی بھرتیوں اور ریکارڈ غائب کرنے کے الزامات کا سامنا ہونے کے باوجود نئی حکومت کی جانب سے نشتر ہسپتال میں اہم عہدے پر تعینات کیا گیا۔

سال 2018ء میں دو حکومتوں اور ایک نگران حکومت کی وجہ سے جنوبی پنجاب کے ہسپتالوں کو فنڈز کا اجراء نہیں کیا جا سکا جس کی وجہ سے ہسپتالوں میں مفت ادویات کی فراہمی تعطل کا شکار رہی۔ موبائل ہیلتھ یونٹس جیسے کئے منصوبے بھی بند ہو گئے اور اس کا بوجھ غریب عوام کو صحت کی ناپید سہولیات کی صورت میں اٹھانا پڑا ہے۔

سماجی رہنما ڈاکٹر فاروق لنگاہ کا کہنا ہے سال 2018 ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے عوام کے لئے صحت کی سہولتوں کے حوالے سے کوئی نوید نہیں لا سکا اور ہسپتالوں میں عوام کو بے شمار مسائل کو سامنا رہا ہے ۔سیاسی و سماجی زاہدہ خان کا کہنا ہے کہ سال 2018 کے دوران ہسپتالوں میں سہولیات کے فقدان ، ڈاکٹرز کی ہڑتالوں اور ادویات کی قلت کے باعث عوام کے لئے پریشان کن ہی رہا ہے متعدد مریض صحت کی سہولیات نہ ملنے کے باعث ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر گئے لیکن حکومتیں عوام کو سہولیات کی فراہمی میں ناکام رہی ہیں ۔

طبی ماہر ڈاکٹر عبدالخالق کا کہنا ہے کہ عوام کو صحت کی سہولتیں فراہم کرنا سٹیٹ کی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن صد افسوس کہ سٹیٹ نے سال 2018 کے دوران بھی عوام کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا جس کی وجہ سے صحت مند معاشرے کی تشکیل کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا۔

ایم ایس نشتر ہسپتال ڈاکٹر عاشق ملک کا کہنا ہے کہ نشتر ہسپتال جنوبی پنجاب کا واحد بڑا ہسپتال ہے جس  میں جنوبی پنجاب سمیت ڈیرہ اسماعیل خان,  بلوچستان  سمیت سندھ سے بھی مریض آتے ہیں جو اضافی بوجھ ہے.  جبکہ سٹاف کی بھی کمی ہے جس کے لئے ڈاکٹروں,  نرسوں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی خالی آسامیوں پر بھرتی کے لئے حکام کو تحریر کر دیا گیا ہے.  مریضوں کی اضافی تعداد کے باعث ادویات کی کمی کا سامنا ہے , ادویات بحران پر قابو پانے کے لئے اقدامات جاری ہیں,  نشتر فیز ٹو کے لئے بھی درخواست کر دی گئی ہے جلد از جلد منصوبہ کا آغاز کر لیا جائے گا۔

About Author

Leave A Reply