صحافیوں کے تحفظ و آزای صحافت کے لیے مشترکہ جدوجہد کرنا ہوگی،خطرات بڑھ رہے ہیں:مقررین

0

کراچی (ای این این ایس) پاکستان میں صحافتی آزادی کو شدید خطرات لاحق ہیں جبکہ اظہار رائے کی آزادی کو بھی سلب کرنے کی کوششیں تیز ہو چکی ہیں۔ اس صورتحال میں میڈیا اداروں، صحافتی تنظیموں، ایڈیٹروں اور صحافیوں سمیت سول سوسائٹی کے دیگر اداروں کو مل کر مشترکہ لائحہ عمل کے ساتھ جدوجہد کرنا ہوگی۔

ان خیالات کا اظہار کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) اور فریڈم نیٹ ورک کی جانب سے “میڈیا سیفٹی پروٹوکولز” کے موضوع پر منعقدہ مشاورتی اجلاس کے دوران مقررین نے کیا۔ تقریب سے سی پی این ای کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر جبار خٹک، سینئر صحافی مظہر عباس، مبشر زیدی، ذوالفقار علی شاہ، عدنان رحمت، اقبال خٹک، ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی، عامر محمود، امتیاز خان فاران، طارق ابوالحسن، سید حسن عباس، شہربانو، رزاق سروہی، عاجز جمالی و دیگر نے خطاب و شرکت کی۔تقریب کے سہولتکار لالا حسن تھے۔

Media Development Expert Adnan Rehmat during presentation; while Lala Hassan is seen as well. (ENNS)

جیو نیوز کے مظہر عباس کا کہنا تھا کہ میڈیا اداروں کو صحافیوں کے تحفظ پر بھرپور توجہ دینی چاہئے کیونکہ یہ وہی لوگ ہیں جو کہ میڈیا ہاؤسز پر ریاستی دباؤ کے خلاف میدان عمل میں ہوتے ہیں، لیکن جب سے ان کو معاشی مسائل کا سامنا ہے تب سے ادارے کمزور ہونا شروع ہوگئے ہیں اور ان کو حکومتوں کی ہر بات ماننا پڑتی ہے جو کہ صحافت کی آزادی کے برعکس ہے۔ میڈیا مالکان کو اداروں کے تحفظ سمیت صحافیوں کے لئے ضابطہ اخلاق، لائف انشورنس، ملازمت کا تحفظ سمیت ان پر ہونے والے حملوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی بھی کرنی چاہئے۔ انہوں نے تجویز دی کہ تحفظ کے حوالے سے دس بڑے میڈیا ہاؤسز کے تحفظ کے انتظامات کا جائزہ لیا جائے اور اس کے بعد ایک مربوط تجاویز مرتب کی جائیں جس کے تحت اداروں کو چلایا جائے۔ مظہر عباس نے کہا کہ بدقسمتی ہے کہ میڈیا ادارے دور دراز علاقوں میں صحافت کرنے والوں کو اپنا ملازم اس وقت سمجھتے ہیں جب وہ شہید ہو چکا ہوتا ہے اس سے پہلے وہ دو تین اداروں کے لئے کام کر رہا ہوتا ہے لیکن کسی ادارے کی طرف سے باقاعدہ ملازمت کا لیٹر نہیں دیا جاتا۔

 ڈاکٹر جبار خٹک نے کہا کہ بدقسمتی سے میڈیا کا تحفظ ہماری ترجیحات میں شامل نہیں ہے لیکن ہمارے اداروں کو تحفظ کے حوالے سے ضابطہ اخلاق نہ صرف مرتب کرنے چاہئیں بلکہ بنا کر ان پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ سی پی این ای نے اس حوالے سے کمیٹیاں بنا رکھی ہیں جن کے ذریعے اے پی این ایس اور پی بی اے سمیت دیگر اداروں کو قریب لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں تاکہ میڈیا کے تحفظ کے لئے متحد ہو کر مشترکہ جدوجہد کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا اور صحافیوں کے تحفظ کی بنیادی ذمہ داری حکومتوں پر ہوتی ہے لیکن وہ پوری نہیں کی جاتیں لہٰذا ہمیں اپنے تئیں میڈیا کے تحفظ کے لئے ہنگامی طور پر اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا میں نان میڈیا اسٹیک ہولڈرز کی بھرمار کے باعث صحافتی آزادی اور تحفظ ترجیحات میں نہیں رہا۔

ڈان نیوزٹی وی  کے سینئر صحافی مبشر زیدی کا کہنا تھا کہ پیمرا جیسے ادارے صحافتی آزادی کا تحفظ یقینی بنانے کی بجائے حکومتی ایجنڈے کے تحت میڈیا مالکان کو مختلف ایڈوائزریز جاری کرتی رہتے ہیں جو کہ آزادی صحافت کی روح کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں ایڈیٹرز کے عہدے کو مضبوط اور فعال بنانا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹی وی چینلز میں عجیب قسم کی پریکٹس دیکھی جا رہی ہے کہ ایک ٹکر کہیں سے آتا ہے اور وہ اکثر چینلز پر اسی طرح چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ اگر اس میں ذرائع لکھا ہے تو سارے چینلز پر بھی اسی طرح نشر ہو رہا ہوتا ہے۔ مبشر زیدی نے مزید کہا کہ ٹی وی چینلز پر زیادہ تر اینکرز نان پروفیشنل ہوتے ہیں جن کی ترجیحات میں ایتھیکل اور آزاد صحافت شامل ہی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ایسے ادارے اور افراد موجود ہیں جن کے خلاف میڈیا میں کچھ بھی شایع یا نشر نہیں ہوتا کیونکہ وہ طاقتور یا میڈیا کو اشتہارات لیتے ہیں۔

Shaherbano talking on women issues; while Saima Farid, Hameeda Ghanghro & other are seen.

پی بی اے کے رکن ذوالفقار علی شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ صحافیوں کی لائف انشورنس، صحت انشورنس اور ملازمت کے حوالے سے جب تک مؤثر انتظامات نہیں کیئے جاتے تب تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا اداروں کو صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے ہر ممکن اقدامات اٹھانے چاہئیں اور سب مل کر ان کے مسائل کے حل کے لئے اقدامات کریں۔

سینئر ایڈیٹر ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی کا کہنا تھا کہ جب سے ملک بنا ہے تب سے ہم سنسرشپ دیکھ رہے ہیں اور بھگت رہے ہیں۔ کسی بھی حکومتی دؤر میں صحافت کو آزادی حاصل نہیں رہی، جو بھی حکمران آیا اس نے آزادی صحافت کو سلب کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بریکنگ نیوز کے کلچر نے صحافیوں کو مزید خطرات میں دھکیل دیا ہے۔

سی پی این ای کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل عامر محمود نے کہا کہ جب میڈیا اداروں اور صحافیوں پر حملے ہوئے تو اس وقت سی پی این ای نے آگے بڑھ کر میڈیا اور صحافیوں کے تحفظ کے لئے کمیٹی تشکیل دی۔ اس ضمن میں اداروں کا سیفٹی سروے بھی کرایا گیا لیکن کچھ لوگوں کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے وہ کام عدم توجہی کا شکار ہو گیا۔ انہوں نے تجویز دی کہ یونیورسٹیز میں میڈیا کے شعبے میں میڈیا اور صحافیوں کے تحفظ کے لئے بھی نصاب شامل کیا جائے۔

اس موقع پر میڈیا  ڈویلپمنٹ ماہر عدنان رحمت نے بتایا کہ 2000ء سے اب تک پاکستان میں 127 سے زائد صحافیوں کو قتل کیا گیا ہے جبکہ گزشتہ 6 سالوں میں صرف 33 صحافی قتل کئے گئے تھے جن میں سے 23 کا تعلق پرنٹ میڈیا سے تھا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جبر کا ماحول ہے اور سیلف سنسرشپ خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ پاکستان میں صحافیوں کو قتل کرنے والے ملزمان کو سزا سے غیر اعلانیہ استثنیٰ حاصل ہے کیونکہ صرف 6 واقعات ایسے ہیں جن میں ابتدائی سطح پر سزا ہوئی ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ سی پی این ای، اے پی این ایس، پی بی اے، پی ایف یو جے و دیگر صحافتی اداروں اور تنظیموں کو مل کر صحافیوں کے تحفظ کے لئے ضابطہ اخلاق تیار کرنا چاہئے تاکہ پیمرا یا حکومت کو یہ موقع نہ ملے کہ وہ ریگولیشن کے بہانے بنا کر میڈیا سے آزادی چھینے۔ عدنان رحمت نے مزید بتایا کہ اقوام متحدہ کے صحافیوں پر پلان آف ایکشن کے مطابق ریاستیں پابند ہیں کہ میڈیا کے تحفظ کے لئے اقدامات اٹھائیں لہٰذا ہمیں چاہئے کہ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم حکومت پر دباؤ ڈالیں۔

Mazhar Abbas, Mubashir Zaidi, Zulfiqar Shah & Dr Azeemi are seen during meeting. (ENNS)

کراچی یونین آف جرنلسٹس کے طارق ابوالحسن، حسن عباس، عاجز جمالی، شہربانو کا کہنا تھا کہ صحافیوں کو جان کے ساتھ ساتھ ملازمت کا تحفظ بھی حاصل نہیں، میڈیا مالکان اشتہارات نہ ملنے کے بہانے بنا کر لوگوں کو فارغ کر رہے ہیں اور اس حوالے سے موجود قوانین پر بلکل عملدرآمد نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا اداروں کو صحافیوں کے لئے لائف انشورنس، ہیلتھ انشورنس، سوشل سیکورٹی سمیت دیگر مراعات کے لئے پابند کیا جائے۔

آواز ٹی وی کے ڈائریکٹر نیوز رزاق سروہی کا کہنا تھا کہ سب کو مل بیٹھ کر صحافیوں کے مسائل کا حل نکالنا ہوگا اور اگر مسائل حل نہ ہوئے تو نہ میڈیا اداروں اور نہ ہی میڈیا تنظیموں کو فائدہ ہوگا۔ میڈیا ادارے صحافیوں کی ضابطہ اخلاق اور تحفظ کے حوالے سے تربیت کا انتظام کریں۔

فریڈم نیٹ ورک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد اقبال خٹک نے کہا کہ دنیا بھر میں صحافیوں کے تحفظ کے لئے اقدامات اٹھائے جاتے ہیں اور صحافیوں کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ اگر انہیں کسی اسٹوری پر جانے کے لئے خدشات و خطرات ہیں تو وہ اس اسائنمنٹ سے انکار کر سکتا ہے۔  پاکستان میں صحافیوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ نوکری یا کوئی اسٹوری ان کی زندگی سے اہم نہیں ہے اس لئے صحافی خود بھی اپنے تحفظ کے لئے اقدامات کریں۔ انہوں نے تجویز دی کہ سی پی این ای اس حوالے سے پہلکاری کرتے ہوئے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ بٹھائے اور میڈیا کے تحفظ کے حوالے سے مشترکہ لائحہ عمل مرتب کرے۔

About Author

Leave A Reply