سندھ میں انسانی حقوق کی صورتحال تشویشناک ہے، مقررین

0

نواب شاہ(ای این این ایس) جسٹس (ر) ماجدہ رضوی نے کہا ہے کہ سندھ بھر میں پانی، صحت اور تعلیم سمیت بنیادی انسانی حقوق کے مسائل یکساں ہیں۔ جبری مشقت اور جبری گمشدگی کے مسائل انتہائی سنجیدہ ہیں جن پر سندھ ہیومن رائٹس کمیشن مختلف کمیونٹی کے ساتھ کام کر رہا ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ اس طرح کے کیسز لینا آسان نہیں لیکن ہمیں اپنی سی کوششیں جاری رکھنی ہیں۔ حکومت نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ سندھ میں انسانی حقوق کی صورتحال خاصی گھمبیر ہے 2011میں سندھ پروٹیکشن فار ہیومن رائٹس ایکٹ بنا، جس کے تحت سندھ ہیومن رائٹس کمیشن تشکیل دیا، اس کمیشن کو ازخود نوٹس لینے کا اختیا ردیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں پیسٹی سائیڈ سے متعلق شکایات کا نوٹس لیکر سندھ کی زرعی پروڈکشن کو سپورٹ دینے کے اقدامات کیے ہیں جس کا براہ راست تعلق کسانوں اور کاشتکاروں کو معاشی تحفظ سے ہے ان خیالات کا اظہار سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کی سربراہ جسٹس ریٹائرڈ ماجدہ رضوی نے نواب شاہ میں  کسانوں اور مزدوروں کے حقوق  مسائل اور چیلنجز اور حکومت کا کردار کے عنوان سے ہاری ویلفیئر ایسوسی ایشن اور سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کے اشتراک سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ جبری گمشدگی کے مسائل انتہائی سنجیدہ ہیں جن پر سندھ ہیومن رائٹس کمیشن مختلف کمیونٹی کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ مزدوروں اور کسانوں کی صورتحال انسانی حقوق سے متصادم ہیں ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ان کے انسانی حقوق کی بنیاد پر سندھ کے پسماندہ طبقوں کے حقوق کی کہ بہم بحال کے لئے اقداما ت کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے بنائے گئے قوانین پر عملدرآمد ناگزیز ہے انہوں نے کہا کہ جبری مذہب تبدیلی کے مسائل پرنظر انداز نہیں کیے جاسکے مذہبی روداری کے فروغ کیلئے انسانی حقوق کے تقاضوں کوپورا کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجرمانہ ذہنت کو مثبت پیش قدمی کی طرح راغب کرنے کے لئے ہمیں ملکر کام کرنا ہو گا رکن سندھ اسمبلی غلام قادر چانڈیو نے کہا کہ طبقات میں تقسیم انسانوں نے اپنے حقوق سلب کرنے کا خود موقعہ دینا شروع کیا۔اقلیتوں کو ذات پات سے الگ ہوکر انہیں میرٹ پرنوکریاں ملنی چاہیے بھٹو صاحب نے اپنے وژن اور مشن میں اقلیتوں کے حقوق کو اولیت دی،انہوں نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا اس پر بھی نظر ثانی کریں گے۔ ہاری ویلفئیر ایسوسی ایشن کے صدر اکرم خاصیخیلی نے کہا کہ کسانوں اور مزدوروں کے حقوق کی صورتحال انتہائی ابتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں اور مزدوروں کے حقوق سے متعلق قانون سازی کے باوجود کسان اور مزدور نہایت مشکل ترین حالات میں وقت گزار رہے ہیں انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی نمائندہ جماعت نے ہمیشہ سندھ میں کسانوں اور مزدوروں کے حقوق کی بات کی لیکن جب اعلیٰ عدالتی فیصلے میں کسانوں کے حقوق کے تحفظ حکم جاری ہوا تو سندھ حکومت نے اس فیصلے کو چیلنج کیا جو افسوسناک عمل ہے۔ سندھ کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن کی رکن قمر دھامراہ نے کہا کہ سندھ میں خواتین  کے استحصال کر کے انہیں بنیادی حقوق سے محروم کیا جانے کا رویہ اب تک موجود ہے قانون ساز ادارے خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے جو کرادار ادا کر رہے ہیں وہ قابل ستائش ہے مگر ان قوانین پر عملد رآمد کو یقینی بنانے کی اشد ضرورت ہے سینئر صحافی و کسان لیڈر صالح بلو نے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ سندھ میں جاگیردارانہ نظام کے تحت آج تک انسانی حقوق کی بحالی کی جدوجہد کے ثمرات نہیں ملے ہیں کسانوں کے مسائل جوں کے توں ہیں آج بھی کسان کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں  مزدوروں اور کسانوں نے کووڈ 19میں بڑی مشکلات کا سامنا کیا ایک میڈیا پرسن کی حیٖثیت سے ہم نے مزدوروں اور کسانوں کے گھروں میں فاقوں کی صورتحال دیکھی ہے جنہیں ریاست کے ذمہ داران سے خاصہ شکوہ ہے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اقلیتی رہنماء لال چند نے کہا کہ سندھ میں مینارٹیز کے حقوق سلب کیے جارہے ہیں سندھ میں ہندو کمیونٹی کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کی وجہ سے اپنے مسکن کو چھوڑ کر جانے پر مجبور ہیں مینارٹی لیڈررمیشن کمار راٹھور نے کہا کہ مینارٹیز کے 5فیصد کوٹہ میں بھی نا انصافی کی جارہی ہے  سپریم کورٹ کے آرڈر کے باوجود ہمیں خاکروب کی نوکری بھی نہیں ملتی  وائٹ کالر لوگ بھی سوئیپر کی سیٹ پر بیٹھے ہیں جوشرمناک عمل ہے۔کچے ملازمین کو کئی کئی ماہ کی تنخواہیں ادا نہیں کی جاتی لوگ علاج معالجے کے لئے مجبور ہیں یہ صورتحال انتہائی ابتر ہے اس موقعہ پرسندھ ہیومن رائٹس کمیشن کے عدنان خاصخیلی، پریس کلب کے صدر ذوالفقار علی خاصخیلی،  بار ایسوسی ایشن کے جی ایم خاصخیلی، عابد لاشاری، جان محمدپٹھان ایڈوکیٹ، فیض محمدکیریو، نائلہ گل و دیگر نے خطاب کیا۔

About Author

Leave A Reply