سعودی عرب سی پیک کا تیسرا پارٹنر ہوگا، نواز کا جیل آنا جانا لگا رہیگا، مختلف ممالک بنک تفصیلات دینگے، پی پی فیصلہ کرلے کہ لبرل ہے یا اتھنک پارٹی، صحافیوں کو صحت کارڈ دینگے، پی ٹی وہ اور ریڈیو میں ملازمین کی بہتات ہے: وزیر اطلاعات

0

اسلام آباد(رپورٹ:لالا حسن) وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہےکہ سعودی عرب  اب سی پیک میں تیسرا شراکتدار ہوگا اور حکومت بھارت سمیت ایران اور دیگر پڑوسیوں سے اچھے تعلقات کے لیے خواہاں ہے۔ سعودی عرب میں نواز شریف کی اب وہ حیثیت نہیں رہی کہ ان کے لیے وہ ڈیل کریں، بلکہ اب  نہ ڈیل ہوگی نہ ڈھیل ہوگی اور نواز شریف کو وہیں پہنچایا جائے گا جہاں کچھ دن پہلے تھے۔

اسلام آباد میں پی آئی ڈی میدیا سینٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے مزید کہا کہ نواز شریف کا جیل آنا جانا لگا رہےگا، لوگ سوال کرتے تھےکہ نوازشریف کو ای سی ایل میں کیوں ڈالا؟ کل وہ نکلتے اور باہر چلے جاتے تو کہاں ڈھونڈتے؟۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نہ  صرف برطانیہ بلکہ سوئزرلینڈ، دبئی  اور دیگر عرب ممالک سے بات چل رہی کہ وہاں پر موجود پاکستانیوں کی دولت کا پتہ لگایا جا سکے اور اس حوالے سے ہمیں بنک اکائونٹس  تک کی معلومات مل جائیگی۔

انہوں نے کہا عمران خان کو جاننے والے جانتے ہیں کہ وہ ڈیل کے قائل نہیں، نہ ڈیل ہوگی نہ ڈھیل ہوگی، نواز شریف کو وہیں پہنچایا جائے گا جہاں کچھ دن پہلے تھے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ نواز شریف خاندان سے ہماری کوئی ذاتی دشمنی تو نہیں، ہماری جائیدادوں پر انہوں نے قبضہ نہیں کیا، ان پر عوامی دولت لوٹنے ک االزام ہے اور ہم کسٹوڈین کی حیثیت سے وہ دولت واپس لانا چاہتے ہیں۔  فواد چوہدری نے مزید کہا کہ سعودی عرب کے ولی عہد کرپشن کے خلاف ہیں، تمام دنیا میں کرپشن کے خلاف تحریک چل رہی ہے، محمد بن سلمان کیسےکہہ سکتےہیں پاکستان میں کسی کرپٹ کو چھوڑ دیاجائے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب آزاد ادارہ ہے ، ہم اسے ڈس کریڈٹ نہیں کرنا چاہتے اور نہ ہی  اسے ہم کنٹرول کر سکتے ہیں۔تاہم رفارمز کی ہر وقت ضرورت رہتی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ نواز شریف کی ضمانت ہوئی ہے کیس ختم نہیں ہوا، دیکھ رہے ہیں نیب کی پراسیکیوشن میں کہاں خامیاں ہیں، نواز شریف مقدمے میں جو خامیاں ہیں انہیں ختم کریں گے، اہم بات یہ نہیں ہےکہ نواز شریف 6 مہینے سال ،2 یا 3سال جیل میں رہیں، اہم بات یہ ہے کہ جو خزانہ وہ لوٹ کر لے گئے اسے واپس لایا جائے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ (ن) لیگ کی عجیب پالیسی ہے، فیصلے حق میں آئیں تو نظام ٹھیک ورنہ بکا ہوا ہے، پہلے فیصلہ کرلیں عدالتیں صحیح فیصلہ کررہی ہیں یا نہیں تاکہ آپ کو کنفیوژن نہ ہو۔انہوں نےکہا کہ نواز شریف اور مریم کو یہاں بے جانے نہیں دینگے اور  حسن نواز، حسین نواز اور ڈار کو پاکستان سے باہر نہیں رہنے دیں گے، پاکستان اور برطانیہ میں تحویل مجرمان کے معاہدے سے اس اقدام کوتقویت ملے گی، نواز شریف اور دیگر لوگوں نے جو جائیدادیں باہر بنائیں انہیں پاکستان واپس لایاجائے گا

ان کے پاس پاکستان کے لوگوں کا پیسا ہے  اور ہم پاکستان کے عوام کے پیسے کے امین ہیں، وزیراعظم کے خصوصی معاون کے طور پر شہزاد اکبر کو لوٹی ہوئی دولت لانے کا ٹاسک دیا ہے۔ایک سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ پی ٹی وی اور ریڈیومیں ملازمین کی بہتات ہے جن کی ضرورت نہیں۔

انہوں کہا کہ حکومت صحافیوں کے لیے جلد صحت کارڈ جاری کریگی جس کے تحت پانچ لاکھ تک ان کا علاج مفت ہو سکیگا۔ وزیر اعظم عمران کان اور وزیر خزانہ اسد عمر اس حوالے سے کافی سنجیدہ اقدامات لے رہے ہیں۔

انہوں نے پی پی پی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ فیصلہ کر لیں کہ لبرل پارٹی ہیں یا اتھنک پارٹی، کیونکہ ان کا موقف تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ ڈاکٹر نفیسہ شاہ ایک طرف غریبوں کی بات کرتی ہیں دوسری طرف گورنر ہائوس عال لوگوں کے لیے کھلنے پر خفا ہیں۔

ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ افغانی بیروزگاری کی وجہ سے جرائم میں ملوث ہو رہے ہیں اس لیے وزیر اعظم نے شہریت کی بات کی تھی، اس حوالے سے سب کو مل کر فیصلہ لینا پڑیگا۔

انہوں نے بتایہ کہ اکتوبر میں سعودی عرب سمیت مختلف مملاک کے وفود پاکستان کا دورہ کرینگے۔

About Author

Leave A Reply