رمضان میں مساجد کے اندر اعتکاف، سحری اور افطاری پر پابندی، سڑکوں پر نماز ممنوع، عمل سوالیہ نشان

0

اسلام آباد(ای این این ایس) حکومتی سی او سی نے رمضان المبارک میں مساجد کے اندر اعتکاف، سحری اور افطاری پر پابندی عائد کردی ساتھ ہی سڑکوں اور فٹ پاتھ پر نماز پڑھنے بھی ممنوع ہوگا۔

این سی او سی نے رمضان المبارک کے حوالے سے ہدایات جاری کردیں، جس کے تحت نماز تراویح کا اہتمام مساجد، امام بارگاہ کے احاطے میں کیا جائے، شہری سڑکوں، فٹ پاتھ پر نماز پڑھنے سے گریز کریں، مساجد، امام بارگاہوں میں وضو کرنے پر پابندی ہوگی، نمازی حضرات گھر سے وضو کرکے مسجد، امام بارگاہ آئیں جب کہ نمازی وضو کرتے وقت صابن سے 20 سیکنڈ تک ہاتھ دھوئیں۔

مساجد، امام بارگاہوں میں قالین، دریاں نہیں بچھائی جائیں، نماز فرش پر ادا کی جائے اور فرش کو کلورین ملے پانی سے دھویا جائے، شہری مسجد میں گھر سے جائے نماز ساتھ لانے کو ترجیح دیں، 50 سال سے زائد العمر، بچوں کو مساجد، امام بارگاہ نہیں آنا چاہیے جب کہ فلو، کھانسی میں مبتلا نمازیوں کو مساجد، امام بارگاہ نہیں آنا چاہیے اور نمازی حضرات ماسک پہن کر مسجد، امام بارگاہ آئیں۔

شہری مساجد، امام بارگاہوں میں مجمع لگانے سے گریز کریں، صف بندی کے دوران نمازیوں کے مابین 6 فٹ فاصلہ رکھا جائے، نمازیوں کی سہولت کے لیے صفوں میں فاصلہ رکھ کر نشانات لگائے جائیں، کورونا کی موجودہ صورتحال میں متعکفین گھر پر اعتکاف کریں، مساجد، امام بارگاہوں میں سحری اور افطاری کا اہتمام نہ کیا جائے۔

مساجد، امام بارگاہ انتظامیہ ایس او پیز پر عمل درآمد کے لیے کمیٹی تشکیل دیں، مساجد، امام بارگاہوں کی انتظامیہ کو مشروط اجازت دی جا رہی ہے، مساجد، امام بارگاہ کو اجازت ایس او پیز پر عمل درآمد سے مشروط ہے، ایس او پیز پر عدم عمل درآمد، کیسز بڑھنے پر پالیسی پر نظر ثانی ہو گی جب کہ حکومت شدید متاثرہ علاقوں کے لیے پالیسی میں تبدیلی کی مجاز ہے۔ خیال رہے کہ ان تجاویز پر عمل درآمد کے لیے کوئی مکینزم وضح نہیں کیا گیا۔رمضان میں مساجد کے اندر اعتکاف، سحری اور افطاری پر پابندی، سڑکوں پر نماز ممنوع، عمل سوالیہ نشان
اسلام آباد(ای این این ایس) حکومتی سی او سی نے رمضان المبارک میں مساجد کے اندر اعتکاف، سحری اور افطاری پر پابندی عائد کردی ساتھ ہی سڑکوں اور فٹ پاتھ پر نماز پڑھنے بھی ممنوع ہوگا۔
این سی او سی نے رمضان المبارک کے حوالے سے ہدایات جاری کردیں، جس کے تحت نماز تراویح کا اہتمام مساجد، امام بارگاہ کے احاطے میں کیا جائے، شہری سڑکوں، فٹ پاتھ پر نماز پڑھنے سے گریز کریں، مساجد، امام بارگاہوں میں وضو کرنے پر پابندی ہوگی، نمازی حضرات گھر سے وضو کرکے مسجد، امام بارگاہ آئیں جب کہ نمازی وضو کرتے وقت صابن سے 20 سیکنڈ تک ہاتھ دھوئیں۔
مساجد، امام بارگاہوں میں قالین، دریاں نہیں بچھائی جائیں، نماز فرش پر ادا کی جائے اور فرش کو کلورین ملے پانی سے دھویا جائے، شہری مسجد میں گھر سے جائے نماز ساتھ لانے کو ترجیح دیں، 50 سال سے زائد العمر، بچوں کو مساجد، امام بارگاہ نہیں آنا چاہیے جب کہ فلو، کھانسی میں مبتلا نمازیوں کو مساجد، امام بارگاہ نہیں آنا چاہیے اور نمازی حضرات ماسک پہن کر مسجد، امام بارگاہ آئیں۔
شہری مساجد، امام بارگاہوں میں مجمع لگانے سے گریز کریں، صف بندی کے دوران نمازیوں کے مابین 6 فٹ فاصلہ رکھا جائے، نمازیوں کی سہولت کے لیے صفوں میں فاصلہ رکھ کر نشانات لگائے جائیں، کورونا کی موجودہ صورتحال میں متعکفین گھر پر اعتکاف کریں، مساجد، امام بارگاہوں میں سحری اور افطاری کا اہتمام نہ کیا جائے۔
مساجد، امام بارگاہ انتظامیہ ایس او پیز پر عمل درآمد کے لیے کمیٹی تشکیل دیں، مساجد، امام بارگاہوں کی انتظامیہ کو مشروط اجازت دی جا رہی ہے، مساجد، امام بارگاہ کو اجازت ایس او پیز پر عمل درآمد سے مشروط ہے، ایس او پیز پر عدم عمل درآمد، کیسز بڑھنے پر پالیسی پر نظر ثانی ہو گی جب کہ حکومت شدید متاثرہ علاقوں کے لیے پالیسی میں تبدیلی کی مجاز ہے۔ خیال رہے کہ ان تجاویز پر عمل درآمد کے لیے کوئی مکینزم وضح نہیں کیا گیا۔

About Author

Leave A Reply