خیرپورمیرس: کنب میں مندر پر حملہ،آگ لگانے کے خلاف احتجاج، قومی اسیمبلی میں تحریک التواء جمع

0

سکھر(ای این این) صوبہ سندھ کے ضلعے خیرپور میرس کے شہر کنب میں نامعلوم شرپسندوں کی جانب سے  مندر پر حملہ کرکے بے حرمتی کا واقعہ سامنے آیا ہے، اس ضمن میں  پولیس نے دو مشکوک افراد کو حراست میں لیکر رہا کردیا،جس پر ہندئوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ واقعہ کے خلاف رکن قومی اسیمبلی نے تحریک التوا جمع کرادی ہے۔

 تفصیلات کے مطابق اس حوالے سے چشم دید گواہوں کا کہنا ہے کہ جیسے پاٹ شالہ ختم ہوئی اور لڑکیاں دیئے جلاکر باہر گئیں تو مندر کو بند کردیا گیا، لوگوں نے دیکھا کہ دھواں اٹھ رہا ہے پہلے خیال آیا کہ شاید پانی کا موٹر جل گیا ہے ، لیکن جب اندر پہنچے تو مندر کے اندرونی حصے میں سے دھواں نکل رہا اور آگ لگی ہوئی تھی۔

 مندر کے دو حصوں پر حملہ کیا گیا ہے جس میں گنیش اور کرشنا کی مورتی کی بے حرمتی کی گئی جبکہ بھگوت گیتا اور گرو گرنتھ صاحب کو جلایا گیا ہے۔واضح رہے کہ نارا کے علاقے چونڈکو سے ہندو لوگ  نقل مکانی کرکے کنب شہر منتقل ہوئے تھے، نارا میں زیر زمین پانی کھارا ہوجانے کی وجہ سے انہوں نے اپنا علاقہ چھوڑ کر یہاں رہائش اختیار کی جہاں یہ مندر بنایا گیا، آس پاس  میں ساری ہندو آبادی ہے جبکہ قریب ہی ایک مسجد واقع ہے جو بعد میں تعمیر کی گئی۔

 ہندو کمیونٹی کے بعض افراد کے مطابق مسجد کی مولوی  نے اعتراض کیا تھا کہ آپ اونچی آواز میں بھجن گاتے ہیں اس سے ہماری عبادت متاثر ہوتی ہے، جس کے بعد یہاں کم آواز پر بہجن گائے جاتے تھے۔

کنب میں پیر کو تاجر برادری نے ہندو کمیونٹی کے ساتھ یکجہتی کے لیے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا، جس میں  ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا، خیرپور پولیس کے اے ایس پی عمران بھی جائے وقوع پر پہنچے، جہاں ہندو کمیونٹی نے انہیں بتایا کہ پولیس نے دو مشکوک نوجوانوں کو حراست میں لیا تھا لیکن اس رہا کردیا گیا۔

 خیال رہے کہ سندھ وہ خطہ ہے جہاں ہندو، مسلمان و دیگر مذاہب کے لوگ امن اور محبت کے ساتھ رہتے رہے ہیں، ان میں مذہبی نفرت نہیں رہی، یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے کی مذہبی رسومات میں بھی شریک ہوتے رہے ہیں، لیکن بڑے عرصہ منظم منصوبہ بندی کے تحت سندھ میں انتہا پسندی کو بڑھاوا دیا جا رہاہے۔

دوسری جانب نواز لیگ کے رکن قومی اسیمبلی کھیئل داس نے قومی اسیمبی سیکریٹریٹ میں  تحریک التواء جمع کرادی ہے۔جس میں کہا گیا ہے کہ کنب میں شام شیوا مندلی مندر کی شرپسندوں نے بے حرمتی کی ہے۔ مندر میں مقدس کتابوں اور مورتیوں کی بے حرمتی کی گئی۔تحریک التواء میں واقعے میں ملوث شرپسندوں کو فوری گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

کھیئل داس کا کہنا ہے کہ واقع پرہندوں برادری میں سخت  بے چینی پائی جاتی ہے، اس لیے  معاملہ ایوان میں فوری زیر بحث لایا جائے اور انصاف دلایا جائے۔

 انسانی حقوق کےرہنما ستار زنگیجو کا کہنا تھا کہ سندھ میں مذہبی انتہا پسندی کو بڑھایا جارہاہے، جو کہ صوفیوں کی دھرتی کے ساتھ ناانصافی ہے، سندھ ہمیشہ مذھبی ہم آہنگی اور رواداری کا خطہ رہی ہے۔ یہاں پر مختلف مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کے مذہب کا احترام کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس واقعہ کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونہ چاہیے۔

About Author

Leave A Reply