حکومت پارلیمان کو مفلوج کرنا چاپتی ہے، آرڈیننس کے ذریعے حکمرانی کو مسترد کرتے ہیں: پی پی پی

0

اسلام آباد(ای این این) پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماؤں شیری رحمٰن ، فرحت اللہ بابر نیر بخاری و دیگر نے کہا ہے کہ پارلیمان کی موجودگی میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے حکمرانی کو مسترد کریں گے،حالیہ الیکشن میں داندھلی کی تحقیقات سے متعلق بنائی گئی کمیٹی کو موجودہ حکومت نے مفلو ج کردیا۔

صحافیوں کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کی ملک میں جاری بحران سے بے خبری اور وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر اور عمران خان کی ڈالر سے متعلق بیان میں تضاد نا اہلی کھلم کھلا ثبوت ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ پی پی پی احتساب کے عمل سے ڈرتی لیکن احتساب ایکراس دی بورڈ ہونا چاہئے۔ موجودہ حکومت انتقامی سیاست اور احتساب کے عمل پر یقین رکھتی ہے۔ ملک میں بحرانی کیفیت ہے اوروزیر اعظم مڈ ٹرم الیکشن کی بات ہیں۔

جمہوریت کے لئے ہماری جماعت نے طویل جہدوجہد کی ہے۔ سلیکٹیڈ پرائم منسٹر کو بھی ہم نے قبول کرلیا۔ موجودہ حکومت دونوں ایوانوں کو مفلوج کرنا چاہتی ہیں۔ ہم ساتھ دیں گے اگر حکمران جماعت پارلیمان کے ذریعے حکمرانی کرنا چاہے۔ جمعرات کو نیشنل پریس کلب اسلام آبادمیں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی پی پی کے رہنماؤں  نے کہا کہ ملک شد ید بحران میں ہیں اور موجودہ حکومت کے وزراء اور وزیر اعظم تضاد پر مبنی بیانات دے رہے ہیں۔

حکومت کے الف اور ب سے بے خبر حکومت چلانے کے اہل نہیں۔شیری رحمن نے کہا ہے ملک کے اقتصادی حالات بحرانی ہیں۔وفاقی کابینہ میں اندرونی خلیج اتنی جلدی سامنے آ گئی ہیں۔تیل کی قیمتوں میں کمی کے ثمرات بھی عوام تک نہیں پہنچے۔قرضوں سے متعلق تفصیلات بھی ایوان میں پیش نہیں کی گئیں۔وزراء کے بیانات میں کھلا تضاد نظر آ رہا ہے۔ ایک وزیر کہتا آئی ایم ایف کے پاس جا رہے دوسرا انکاری ہے۔پارلیمنٹ کو غیر فعال اور غیر ضروری سمجھا گیا ہے۔یہ ملک کو صدارتی نظام کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔ جس کی ہم کھلم کھلا مخالفت کرتے ہیں۔

احتساب کے لیے دو قوانین ہیں وہ نامنظور ہیں۔ ڈالر کی قیمت کے بارے میں وزیراعظم اور وزیر خزانہ میں سے کوئی ایک جھوٹ بول رہا ہے۔جھوٹ بولنے پر آرٹیکل 62 ون ایف لگتا ہے۔سپریم کورٹ اعظم سواتی کے خلاف 62 ون ایف کی کاروائی کر رہی ہے۔وزیراعظم اور وزیر خزانہ میں سے کسی ایک کے جھوٹ بولنے پر بھی عدالت کو نوٹس لینا چاہئے۔شیری رحمن نے مزید کہا کہ ملک میں بحرانی کی کیفیت ہے۔وزیراعظم کے آرڈیننس کے ذریعے حکمرانی کی بات پر سخت تشویش ہے۔احتساب کے لبادے میں انتقامی سیاست کی جا رہی ہے۔ملک گو مگو کی کیفیت میں ہے۔ڈالر کا ریٹ کس حد تک تجاوز کر چکا ہے۔کیا ملک میں دھکا سٹارٹ حکمرانی کرنا چاہتے ہیں۔

About Author

Leave A Reply