جنوبی پنجاب صوبہ کا قیام اور تحریک انصاف کا وعدہ، رہنما کیا کہتے ہیں؟ وسیم ناصر

1

 پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نےاقتدار میں آنے سے پہلے جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کا اعلان کیا اور سو روزہ پلان کے میں جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کا بھی وعدہ  کیا،تاہم اب سو دن مکمل ہوچکے ہیں لیکن تبدیلی سرکار کی جانب سے تاحال عملی طور پر کوئی اقدام سامنے نہیں آسکا۔

تحریک انصاف  نے اقتدار میں آنے سے قبل جنوبی پنجاب کی عوام سے وعدہ کیا کہ وہ حکومت میں آکر سو دن میں جنوبی پنجاب صوبہ بنا دیں۔ عام انتخابات سے قبل جنوبی پنجاب میں انتخابی مہم کے دوران عمران خان نے جلسوں میں عوام سے وعدہ کیا کہ وہ اقتدار میں آکر جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام کو یقینی بنائیں گے جبکہ انتخابات سے قبل صوبہ جنوبی پنجاب محاذ والے بھی اس بنیاد پر تحریک انصاف کا حصہ بنے کے وہ اقتدار میں آکر اس خطے کو پہچان دیں گے اور نیا صوبہ بنا ئیں گے۔

 صحافی نعمان خان بابرجنوبی پنجاب کے مسائل اور سیاسی اتار چڑھاؤ پر گہری نظر رکھتے ہیں ان کہنا  تھا کہ  پی ٹی آئی حکومت نے جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے لیے تیرہ ممبران پرمشتمل ایگزیکٹو کونسل تشکیل دی ہے، اس کونسل کے چیئرمین چوہدری طاہر بشیر چیمہ، ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی  سردار دوست محمد خان مزاری، صوبائی وزیر خوراک محمد سمیع اللہ چوہدری، ایم پی اے صاحب زادہ گزین عباسی، ایم پی اے سید علی عباس شاہ، ایم پی اے سردار شہاب الدین، ایم پی اے سردار جاوید اختر لنڈ، ایم پی اے منصور علی خان، سابق این اے مینا احسان لغاری اور مختلف بیوروکریٹ سمیت تیرہ رکنی کمیٹی بنائی۔

یہ کمیٹی بھی زیادہ متحرک دکھائی نہیں دیتی جبکہ بہاولپور کے ق لیگ کے نمائندے بہاولپور کی پرانی شکل میں بحالی کا بھی مطالبہ کررہے ہیں جس سے صورتحال گھمبیر ہوگئی ہے۔

چیئرمین ایگزیکٹو کونسل جنوبی پنجاب چوہدری طاہر بشیر چیمہ نے  کہا ہے کہ جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام اولین ترجیح ہے اس حوالے سے کوششیں تیز کر دی ہیں جلد کونسل کا اجلاس طلب کریں گے اور آئندہ کے لائحہ عمل طے کریں گے۔

ملتان میں ایک پریس کانفرنس کے دوران پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے  تحریک انصاف کے وائس چیئرمین اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے لیے کام کررہی ہے تاہم ہمارے پاس صوبائی اسمبلی میں دوتہائی اکثریت نہیں ہے جو صوبہ بننے میں روکاوٹ ہے اس سلسلے میں جلد حکمت عملی طے کی جائے گی۔

 سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی  کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے جنوبی پنجاب صوبے کا بظاہر کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔حکومت نے اگر صوبہ کے لیے مدد مانگی تو ضرور کریں گے لیکن حکومت جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام کے حوالے سے سنجیدہ دکھائی نہیں دیتی۔

سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی نے   کہا ہے کہ حکومت  اقتدار میں آنے سے پہلے  جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کا دعویٰ کرتی رہی اب کہتی ہے ان کے پاس اکثریت نہیں جبکہ تحریک انصاف کی صوبہ اور وفاق میں بھی حکومت ہے عمران خان نے اپنے قد سے بڑے دعوے کیے ۔

صوبہ جنوبی پنجاب میں ملتان، خانیوال، لودھراں، وہاڑی، بہاولنگر، بہاولپور، ڈی جی خان، راجن پور، مظفر گڑھ، رحیم یار خان، راجن پور، لیہ، بکھر، لودھراں اور میاں والی کے اضلاع کو شامل کرنے کی تجویز ہے، تاہم صوبہ بہاولپور کی بحالی کے حامی افراد کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کی بجائے صوبہ بہاولپور کو بحال کیا جائے کیوں کہ بہاولپور 1955 سے پہلے علیحدہ صوبے کی حثیت سے موجود تھا جسے فوری بحال کیا جائے ، جبکہ مسلم لیگ ن نے 2012  میں صوبہ جنوبی پنجاب اور صوبہ بہاول پور کی بحالی کی قرارداد پنجاب اسمبلی سے منظور کرائی تھی۔

اس وقت یے اطلاعات بھی ہیں کہ کچھ لوگ ملتان   کو دارالحکومت دیکھنا چاہتے ہیں، جب کہ پی ٹی آئی میں شامل کچھ رہنما بہاولپور کو صوبائی دارالحکومت رکھنے کے خواہشمند ہیں۔

ملتان سے تعلق رکھنے والے صوبائی اراکین اسمبلی نے کہا  ہے کہ جنوبی پنجاب صوبہ کے لیے وزیراعظم عمران خان سنجیدہ ہیں صوبہ کے قیام کے لیے  کوششیں جاری ہیں جلد جنوبی پنجاب کی عوام کو خوشخبری ملے گی۔

About Author

1 Comment

Leave A Reply