جنرل (ر) حمید گل کی بیٹی کی دہائی

0

اسلام آباد(ای این این ایس) واران ٹورز کی چیئرپرسن و معروف جنرل (ر) حمید گل کی بیٹی عظمیٰ گل نے گزشتہ روز نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہفتہ کے روز اے ایس پی کینٹ, ایس ایچ او تھانہ کینٹ اوراے ڈی سی آر نے کینٹ بورڈ کے ملازمین اور پولیس کی بھاری نفری لیکر کینٹ ایریا میں موجود ہمارے ڈپو واران ٹورز کا گیٹ توڑتے ہوئے چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کیا اور وہاں پر موجود عملہ کے ساتھ غیر مناسب رویہ اختیار کرتے ہوئے دھکے دیئے اور ان پر تشدد بھی کیا۔

انہوں نے کہا کہ جب ہمیں اطلاع ملی تو اس وقت میرے شوہر نماز کی تیاری کر رہے تھے، پولیس نے مین راستہ سے اندر نہیں جانے دیا تو ہم مسجد کے راستے ڈپو میں داخل ہوئے. پولیس اور انتظامیہ سے پوچھا کہ وہ کس مقصد کیلئے دروازے توڑ کر غیر قانونی طور پر ڈپو کے اندر داخل ہوئے، تو ہمارے سوال کرنے پر اے ڈی سی آر نے اپنا تعارف کروایا کہ وہ گورنمنٹ ہیں اور یہ جگہ وہ خالی کروا کر قرنطینہ بنانے والے ہیں، جس پر میں نے ان سے کاغذ/ تحریری احکامات مانگے تو اے ڈی سی آر نے غیر مناسب اخلاق میں کہا کہ ان کا آنا ہی کافی ہے کسی قسم کے احکامات اور تحریرکی ضرورت نہیں۔

عظمیٰ گل نے کہا کہ جب ہم نے اے ڈی سی آر اور پولیس کو کہا کہ ہمارے پاس عدالتی احکامات (سٹے) موجود ہیں تو انہوں نے معزز عدالتوں اور ججوں کے بارے میں جو جملے استعمال کیے وہ کیمرہ کے سامنے بتاتے ہوئے شرم آتی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ دفتر جانے سےجب ان لوگوں کو روکا تو انہوں نے مجھ پر بھی تشدد کی کوشش کی اور مجھے کمرہ میں بند کر دیا۔
میرے سر سے دوپٹہ بھی کھینچ کر اتار دیا۔
انہوں نے حکومت سے بھی سوال کیا کہ مجھے کس چیز کی سزا دی جا رہی ہے۔ حکومت ملوث پولیس و افسران کے خلاف کارروائی کرے۔

About Author

Leave A Reply