تاجروں کی جانب سے چائنہ بارڈر نہ کھولنے کی صورت میں احتجاج کا اعلان

0

گلگت(ای این این ایس) پاک چین بارڈر تجارت کے لئے نہ کھولنے کی صورت میں تاجر برادری نے 9ستمبر سے سی پیک روٹ پر احتجاجی دھرنا دینے کا اعلان کردیا۔
گلگت بلتستان امپورٹرز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر اسماعیل لیون ودیگر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جی بی کے تمام اضلاع سے تعلق رکھنے والے ہزاروں کاروباری اور مزدوروں کو پاک چین بارڈر کی بندش سے ابھی تک لاک ڈاون کا سامنا ہے جو خنجراب کے راستے چین کے ساتھ درآمد و برآمد کرتے ہیں۔
چین کے ساتھ کاروبار کی بندش کی وجہ سے تاجروں کے اربوں روپے مالیت کے سامان سے لدے ہوئے 150سے دو سو کنٹینر پچھلے سال سے چین میں پھنسے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے کاروباری دیوالیہ اور معاشی طور پر تباہ ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ سمندری راستے تجارت ہورہی ہے اس لئے ایس او پیز کے تحت دسمبر کے آخر تک بارڈر ٹریڈ کی اجازت دیکر گلگت بلتستان کے ہزاروں خاندانوں کو معاشی طور پر تباہ ہونے سے بچایا جائے بصورت دیگر تاجر و دیگر متاثرین 9 ستمبر سے اپنے بچوں کے ہمراہ سی پیک روڈ پر احتجا شروع کریں گے۔

تاجر کے قاتلوں کو سزا دی جائے

دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی کے رھنما و کے پی کے اسمبلی کے ممبر نثارممند نے گزشتہ دنوں گلگت میں تاجر الطاف خان کے قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے گلگت پولیس کی تعریف کی اور مبینہ ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے گلگت پریس کلب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پختون برادری باچہ خان کے عدم تشدد پر یقین رکھتی ہے اور گلگت بلتستان میں امن پسندی کے ساتھ مزدوری پر یقین رکھتے ہیں بلکہ جی بی کی معیشت کو فروغ دینے میں بھی نمایاں کردار ادا کررہے ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ پختون تاجر کے قتل میں ملوث ملزمان کو جس طرح گرفتار کیاگیااسی طرح شفاف تفتیش کے بعد عدالت سے سزا بھی دی جائے گی۔انہوں نے کہاکہ اگر گلگت میں موبائل ڈکیتی کی اولین واردات میں قتل کئے جانے والے الطاف کے ملزمان کو سزا دینے میں چشم پوشی کی گئی تو اس کے خراب نتائج مرتب ہونگے اور ملک کے اعلی ایوانوں میں آواز اٹھائیں گے۔

About Author

Leave A Reply