بھٹو کی گورکھ ہل کا سحر اور غربت کے سائے  تحریر:یوسف عابد

0

کراچی میں مقیم دوستوں سے جنوبی پنجاب کے نظر انداز سیاحتی اور ٹھنڈے مقام فورٹ منرو اور ماڑی کی طرح سندھ میں ذوالفقار علی بھٹو سے منسوب گورکھ ہلز کا نام سنا تو فوری پروگرام بنا کر رخت سفر باندھ لیا۔ حیدر آباد سے قافلے کی صورت میں روانہ ہوئے تو راستے میں معروف مقامات جامشورو سے انڈس ہائی وے شروع ہوتی ہے جو پنجاب تک جاتی ہے اور دادو تک یہ ہائی وے سنگل روڈ پرمشتمل ہے جہاں اب تک سینکڑوں حادثوں میں ہزاروں افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں اور اپنی زندگی میں بھٹو کا نام لیتے رہے لیکن بھٹو کے نام پر حکومت میں آنے والوں نے اس سڑک کی توسیع نہیں کی ہے۔

 اس طرح سیہون شریف اور جی ایم سید کے علاقہ سن سے گذرے تو جی ایم سید کے بارے میں مشہور کی گئی کئی کہانیاں اور بیانات یاد آ گئے جن کی حقیقیت کو عملی زندگی میں آنے کے بعد جانا اور اس کے بعد وزیراعلیٰ سندھ کا علاقہ شروع ہوتا ہے اور سڑک کنارے ان کے دادا کے نام پر موجود گوٹھ مراد علی شاہ آتا ہے اور وزیراعلیٰ کا اپنا نام بھی ان کے دادا پر ہے جبکہ ان کے والد سید عبداللہ شاہ بھی وزیراعلیٰ سندھ رہ چکے ہیں جن پر پرویز مشرف کی حکومت کے قیام کے بعد ملک سے باہر چلے جانے پر دولت لوٹ کر لے جانے اور لانچ میں بیرون ملک فرار ہو جانے جیسے الزامات لگائے جاتے رہے۔

یہاں سے کچھ ہی فاصلے پر ضلع دادو کا علاقہ بھان سعید آباد کا آتا ہے جو سیہون اور پنجاب سے مورو کے راستے دونوں جانب سے آنے پر لگ بھگ 25 سے 30 کلو میٹر ہے۔ یہاں سے بائیں جانب بل کھاتی انڈس ہائی وے کو چھوڑ کر سنگل روڈ پر داخل ہوں تو راستے میں لکی شاہ کے علاقہ میں  کربلا کا جیتا جاگتا منظر پیش کرتی امام بارگاہ اور قدرتی ٹھنڈی ہواؤں سے بھری پہاڑی غاریں ہیں جہاں لوگ رک کر گرمی اور سردی دونوں کا اکٹھے مزہ لیتے ہیں اور 95 کلومیٹر کاسفر طے کر کے جوہی اور واہی پاندھی  سے ہوتے ہوئے بوزدار آباد پہنچتے ہیں جہاں کے غریب لوگوں کو اس بات پر خوش ہوتے دیکھا کہ ان کے قبیلے کا سردار ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کا وزیراعلیٰ ہے اور اس کے بعد مزید بیابان، ویران اور خطرناک راستوں سے پُر علاقہ سے گذرنے کے بعد گورکھ ہلز جا پہنچتے ہیں اور حیدرآباد سے یہاں تک موجود ویران اور اجاڑ زمینوں کو دیکھ کر آؤ سندھ آباد کریں جیسے کئی منصوبوں کی یاد آتی ہے جو شاید درست طور پر چلائے جاتے تو آج سندھ کے ساتھ پاکستان بھی قدرے خوشحال ہوتا۔

تاہم شدید گرمی کے بعد گورکھ ہلز میں ٹھنڈک کا احساس ایک نئی تروتازگی دیتا ہے لیکن راستے میں جانوروں سے بدتر زندگی گذارتے اور غربت کی تصویر بنے افراد اپنی گارے اور پتھر کی بنی کھولیوں نما گھروں، دکانوں اور پہاڑوں پر پاکستان پیپلز پارٹی کے جھنڈے لگائے ہوئے ہیں اور ایسے علاقوں میں بھٹو کی جماعت کو کلین سوئپ کامیابی دلاتے ہیں جہاں قائم گورکھ ہلز اتھارٹی کے سربراہ سید قائم علی شاہ، سسی پلیجو، شازیہ مری، شرمیلا فاروقی رہ چکے ہیں لیکن جہاں زیرو پوائنٹ سے قدرے پہلے بے نظیر ویو پوائنٹ کا بورڈ بھی لگایا گیا ہے لیکن ان کے نام سے منسوب کوئی یادگار سلامت نہیں ہے۔

بے نظیر بھٹو اپنے والد کی یادوں کو تازہ کرنے کے لئے یہاں آئیں کہ ملک کے لاکھوں دلوں کی دھڑکن ذوالفقار علی بھٹو بذریعہ ہیلی کاپٹر یہاں قیام کے لئے آئے اور ان کے لئے فائبر اور ہارڈ بورڈ شیٹوں سے ایک ہٹ بھی تعمیر کیا گیا جو سیاحوں کے لئے کھولے رکھنے کی بجائے بند رکھا ہوا ہے اور اس یادگار پر جیالوں نے سیاہی سے نعرے لکھ دئیے ہیں۔

یہاں یخ بستہ ہواؤں کے ساتھ سورج کے طلوع اور غروب ہونے اور چاند نکلنے کے مناظر آپ کو ایک سحر میں جکڑ لیتے ہیں اور بھارت تک جاتے کیر تھر پہاڑی سلسلے میں مختلف اشکال کے پتھر اور مٹی کے بنے پہاڑ قدرت کے حسن صناعی کا دلفریب منظر پیش کرتے ہیں شاید انہی خوبصورت مناظر، موسم اور احساسات نے میرے بھٹو کو بھی جکڑ لیا تھا لیکن صد افسوس کہ بھٹو کے نام پر اقتدار کے مزے لوٹنے والے نہ تو اس کی خوبصورتی کو اجاگر کر سکے اور نہ ہی بھٹو کے نعرے لگانے اور ان کے نام پر جان دینے والوں کی زندگی میں بنیادی ضروریات کا کوئی ایک بھی سکھ نہیں بھر سکے۔

بس ٹھیک اسی طرح جیسے میرے جنوبی پنجاب کے مری جیسے خوبصورت علاقوں فورٹ منرو اور ماڑی کے علاقوں اور یہاں کے رہنے والوں کے ساتھ تخت لاہور سے پہلے یہاں سے منتخب ہونے والوں نے کیا ہے۔ تاہم اب گورکھ سے منتخب ممبر قومی اسمبلی سردار رفیق جمالی اتھارٹی کے بھی چیئرمین ہیں اور سڑک کی تعمیر کے ساتھ اتھارٹی کے ریزارٹ بھی تعمیر کرا رہے ہیں اور امید ہے کہ آئندہ برسوں میں سندھ کے رہنے والے مری جانے کی بجائے میرے بھٹو کے گورکھ جانے کو ترجیح دیں گے۔

About Author

Leave A Reply