بکوٹ کے عوام کیا چاہتے ہیں؟ تحریر۔نویداکرم عباسی بکوٹ ایبٹ آباد

1

ماحولیاتی آلودگی سے پاک اس منصوبے سے جہاں 640میگاواٹ بجلی ملے گی وہاں ہی انسانوں اور آبی وجنگلی حیات کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔نیلم جہلم ہا ئیڈروپاور پراجیکٹ منصوبے کا جہاں اختتام ہو گا وہاں سے کوہالہ بکوٹ کے مقام سے سیری بانڈی کشمیر گاوں تک 29کلومیٹر لمبی جھیل کا نقطہ آغازہو گا۔مہال ہائیڈرو پاور کے منصوبے سے خیبر پختون خواہ ایبٹ آباد (سرکل بکوٹ) پنجاب تحصیل کوہ مری اور آزاد کشمیر باغ اور مظفر آباد کے اضلاع شامل ہیں۔

 آزاد کشمیر کے گاؤں بانڈی سیری کے مقام پر اس ڈیم کے پاور ہاؤس بنا کر بجلی پیدا کی جائے گی وطن پاک کو اللہ پاک نے گونا گوں قدرتی وسائل سے مالا مال کر رکھا ہے اسکے سر سبز پہاڑوں سے بارشوں اور برف پوش پہاڑوں سے برف کے پانیوں سے بہتے جھرنے آبشاریں اور دریا آزاد کشمیر اور اسکے ملحقہ سرکل بکوٹ خیبر پختون خواہ ضلع ایبٹ آباد کے لوگ صدیوں سے جہاں ان نظاروں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں وہاں ہی اب نت نئے منصوبوں اور سیاحت کے فروغ کے بعد علاقہ میں وہاں ہی اب نئے منصوبوں اور سیاحت کے فروغ کے بعد علاقہ میں مہمانوں کی آمدورفت پر جہاں خوشی کا اظہار کر رہے ہیں وہاں ہی عدم سہولیات کے باعث تحفظات کا شکار ہیں پانیو ں کی کمی اور ماحولیاتی آلودگی کے باعث جہاں انسانی زندگیوں کو خطرات ہیں وہاں ہی ان قدرتی نالوں اور دریا جہلم میں آبی مخلوق خاص کر بکوٹ نالہ میں لذیذ نایاب سنو ٹراوئٹ نامی مچھلی کی نسل کشی اور جنگلات کی کمی اور نایاب جنگلی حیات کا من لیپرڈ (چیتے) بندر جنگلی مرغ اور قسم ہا قسم کے مہاجر پرندے اور سب سے خطرناک بہت بڑی تعداد میں خنزیروں کا آبادیوں اور دریا جہلم کے ساتھ ساتھ سرکل بکوٹ میں آباد ہونا ہے اور اب خطرات سے دو چار ہیں

مہال ہائیڈرو پاور پراجیکٹ یا کوہالہ سیری بانڈی ڈیم کوہالہ ڈیم کا منصوبہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور سے شروع ہو کر 2010 تک کاغذوں میں اور موقع پر سروے ہوتے رہے اور پھر نئے سرے سے پاک چین دوستی نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے بعد اس منصوبے کو ایک چینی کمپنی کے حوالے کیا گیا اور اس ضمن میں کمپنی نے تینوں شراکت داروں پنجاب خیبر پختون خواہ اور آزاد جموں کشمیر کے سرکاری نمائندوں اور عوام علاقہ سے مشاورت اور انکے نقصانات کے جائزہ اور معاوضہ کیلئے کام شروع کر دیا اور 14 نومبر2018 کو بکوٹ شریف ایبٹ آباد کے گاؤں کے مرکزی بازار کوہالہ میں بانڈی کے مقام پر (عوامی شنوائی) کے عنوان سے 2014 کے ایکٹ دفعہ13 کے تحت کھلی کچہری کا انعقاد کیا جس میں ڈائرریکٹر جنرل DGماحولیات صوبہ خیبر پختون خواہ ثناء اللہ خان مہال ہائیڈرو کمپنی کے کنسلٹنٹ منیجنگ ڈائریکٹر Hagler Bailly Pakistan   وقار زکریا اور مہال پاور کمپنی لمیٹڈ کے چیف ایکزیکٹو نعیم اخترنے اس منصوبے کی تفصیلات بتائیں کہ اسکی تکمیل سے پاکستان کو 640 میگاواٹ بجلی ملے گی تو وہاں ہی جو لوگ اور آبی و جنگلی حیا ت متاثر ہوں گے انکے حوالے سے کام ہو گا ثناء اللہ خان DG ماحولیات نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ عوامی حقوق کا تحفظ ہو لوگ بہت ہی پر امن ہیں اسکے ساتھ جنگلات اور وائلڈ لائف کے ساتھ دیگر ماحولیاتی مسائل کے حوالے سے عوام کی تجاویز اور مسائل حکومتی سطح پر لکھ کر کمپنی کو دے کر انکے جوابات لیے جائیں ۔

ثناء اللہ خان نے کہا کہ میری ذمہ داری ہو گی کہ آپ کے حقوق کا مکمل تحفظ ہو وقار زکریا نے منصوبے کی تفصیل دی کہ کوہالہ سے سیری بانڈی گاؤں تک جھیل کی لمبائی 29 کلو میٹر ہو گی اسمیں کوہالہ کے مقام پر برسالہ کے قریب دریا جہلم کے پانی جو کہ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور کی سرنگ سے آخری جگہ ہے اور دوسری طرف سے شاہدرہ چھتر کی طرف سے آنے والے نیلم جہلم ہائیڈرو ہائیڈرو پاور کے دو دریاؤں خیبر پختون خواہ کے دریا کنہار بکوٹ سرکل کے نالوں اور نیلم دریا کا پانی سب کوہالہ کہ مقام پر ایک جگہ سے اس جھیل میں گریں گے جہاں سے ڈیم یا دریا کے ساتھ مقامی بازار اور آبادیوں کیلئے ڈیم کی کنکریٹ کی دیوار 88.4 میٹر بلند ہو گی اور جھیل کے پانی کے نیچے 771ہیکٹر زمین زیر آب آئے گی جس میں156 عمارتیں 184دوکانیں1338کنال زرعی زمین6پل1پولیس چیک پوسٹ ایک سیاحتی معلوماتی سنٹرمتاثر ہوں گے۔جبکہ 30سالہ مدت لیز پر کمپنی کی طرف سے آزاد جموں وکشمیر کو روزانہ کے حساب سے آبیانہ کی مد میں خطیر رقم ملے گی۔

 انھوں نے نہیں بتایا کہ اس حساب سے خیبرپختون خواہ اور پنجاب کا حصہ کتنا ہو گا۔جس پر عوام علاقہ کی طرف سے عمائدین علاقہ مشتاق عباسی،ساجد قریش عباسی،شوکت ارباب عباسی،نوید اکرم عباسی،مہتاب انجم ، راجہ صنوبر خان ،عبدالرشید،غضنفر علی عباسی،حفیظ عباسی ودیگر نے جہاں اس عظیم منصوبے اور پاکستان کی خوشحالی کیلئے ڈیم اور بجلی کی پیداوار اور معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا ساتھ ہی ازسرے نو سروے اور دیگر تحفظات کا اظہار کیا گیا جسمیں خطہ سرکل بکوٹ خیبر پختونخواہ کوہ مری مظفرآباد براستہ کوہالہ بکوٹ روڈ کے متاثر ہونے کی صورت میں نئی روڈ عوام علاقہ کی ضرورت کے مطابق فوری تعمیر کوہالہ ( ایبٹ آباد) بکوٹ اور دان گلی کوہالہ( مظفرآباد) کو ملانے والا تاریخی کوہالہ پل جہاں سے قائد اعظمؒ نے کشمیر سے پاکستان کا سفر کیا تھا اورکوہالہ باغ ایبٹ آباد عباسیاں بیروٹ کو ملانے والا پل متاثرہ لوگوں کے کاروبار کے متبادل روزگار اور سب سے اہم کوہالہ کے مقام پر خیبر پختونخواہ کشمیر اور کوہ مری کے عوام کیلئے پنجاب کی سرکاری زمین 3 سو کنال اراضی پر اس منصوبے سے ہسپتال کی تعمیر ۔ڈیم کی تعمیر کے دوران وہ جنگلی حیات جنکا مسکن یونین کونسل بیروٹ اور بکوٹ کے علاقوں سے دریا جہلم کے کنارے ہیں وہ دوبارہ آبادیوں میں داخل ہوں گے اور خنزیروں اور چیتوں کے ستائے عوام نہ صرف ان کو ختم کریں گے بلکہ نایاب نسل کے پرندے جو زلزلہ کے بعد اس خطے میں ہیں وہ بھی ڈسٹرب ہوں گے ۔

بکوٹ نالے سمیت دریا اور نالوں میں مچھلیوں کی نسل کو خطرات ہیں ان سب کیلئے وسیع علاقہ پر جھیل کے ساتھ بکوٹ نیشنل پارک یا شاہراہ کشمیر کی ساتھ سفاری پارک بنا کر نہ صرف ان جانوروں کو تحفظ دیا جا سکتا ہے بلکہ اس پارک اور سفاری سے سیاحوں کی بہت بڑی تعداد کے آنے سے ملک اور خطے کے لوگوں کی آمدن کے ذرائع میں اضافہ ہو گا ۔ان تمام مسائل اور بات چیت کے بعد کمپنی کے نمائندوں نے اور ڈی جی ثناء اللہ خان نے یقین دھانی کروائی کہ نئے سرے سے تمام باتیں حکام تک پہنچائیں گے اور جوجو چیز متاثر ہو گی بتدریج سڑک پل روزگار اسکو مکمل کریں گے ۔

About Author

1 Comment

Leave A Reply