بڑی دیر کر دی مہرباں آتے آتے، خواجہ سرا کی اکثریت ووٹ کے حق سے محروم سدرہ اشرف

0

پاکستان میں الیکشن 2018 کی ہرطرف گہما گہمی جہاں رہنے والے تمام پاکستانی مرد،  عورت،  بزرگ،  نوجوانوں سمیت اقلیتی برادری اپنا رائے حق دہی استعمال کر کے حکومتی نمائندے منتخب کریں گے،  مگر اس حق سے محروم رہ گئے تو ملک بھر میں رہائش پذیر بیشتر خواجہ سرا۔جن کے لئے حکومت پنجاب نے سوچا تو ضرور مگر ان کا حق دلانے میں ناکام ہی رہی۔

 حکومت پنجاب کی جانب سے حقوق کی فراہمی کی کاوش بہت اچھی ہے تاہم الیکشن 2018 میں بیشتر خواجہ سرا  حق رائے دہی سے محروم رہیں گے۔شناختی کارڈ تو بن جا ئیں گے لیکن ووٹ نہیں ڈال سکیں گے کیونکہ ووٹر فہرستیں الیکشن کمیشن نے مرتب کر تے      ہو ئے منجمند کر دی ہیں۔خواجہ سراؤں کو پہلی مرتبہ ووٹ کا حق بھی ملا اور حق رائے دہی سے محروم بھی رہیں گے۔اس سلسلہ میں حکومت پنجاب کی جانب سےخواجہ سراؤں کی رجسٹریشن اور شناختی کارڈ کی فراہمی کے مراحل تاخیر کا شکار ہو گئے ہیں جبکہ ووٹر فہرستیں کب کی مرتب کر لی گئی ہیں۔حکمرانوں کی غفلت ایک مرتبہ پھر آڑے آگئی ہے۔

خواجہ سراؤں کو شناخت اور حقوق دلانے کیلئے محکمہ سوشل ویلفیئر کے  زیر اہتمام پنجاب  بھر کے ہر ضلع میں  سہولت سنٹرز فوری طور پر قائم کرنے کا فیصلہ کر کے سنٹرز فعال کر دیئے گئے ہیں.  خواجہ سراؤں کو قبول نہ کرنے والے والدین کی جگہ گرو کے نام کا اندراج کیا جا ئےگا۔گرو کی تصدیق پر خواجہ سرا شناختی کارڈ اور دیگر سہولیات کے حقدار قرار پائیں گے۔پنجاب حکومت کی طرف سے پنجاب کے36 اضلاع میں خواجہ سراؤں کی رجسٹریشن کا عمل مکمل کر تے ہو ئے انہیں شناختی کارڈز اور سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا ئے گی۔اس کیلئے ہر ضلع میں سوشل ویلفیئر دفاتر میں سہولت سنٹر  قائم کرتے ہو ئے فعال کیے گئے ہیں، جن کے ذریعے رجسٹر یشن اور شناختی کارڈ بنوانے کیلئے قائل کرتے ہو ئے رہنمائی کی جا ئے گی تاکہ خواجہ سرا قومی دھارے میں شریک ہو سکیں۔

اس سلسلہ میں تقریباًتمام اضلاع میں خواجہ سراؤں کے گرو کی رجسٹریشن مکمل کر لی گئی ہے۔متعلقہ گرو کے ذریعے ان کے چیلوں کی بھی رجسٹریشن کی جائے گی اور چیلوں کے خواجہ سرا ہو نے کی تصدیق گرو ہی کریں گےتاہم ایسے خواجہ سرا جن کے والدین انہیں شناخت دینے سے انکاری ہیں ان کی ولدیت میں گرو کانام درج کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ ضلع ملتان میں سوشل ویلفیئر نے اب تک 55خواجہ سراؤں(گرو)کی رجسٹریشن کر لی ہے جو اپنے علاقے میں موجود دیگر خواجہ سراؤں کی رجسٹریشن میں معاونت فراہم کریں گے۔جس کے بعد محکمہ صحت میڈیکل بورڈ تشکیل دے گا اور محکمہ پولیس چانچ پڑتال کرے گا اور اہل قرار دیئے جانے والے خواجہ سراؤں کو قومی شناختی کارڈز کی فراہمی کا سلسلہ شروع کیا جا ئے گا جبکہ سہولت سنٹر ز کی نگرانی  ڈپٹی ڈائریکٹرز سوشل ویلفیئر کریں گے۔

گروں کی رجسٹریشن کے بعد 201 خواجہ سر اؤں کے کوائف نادرہ سنٹرز کو شناختی کارڈ بنوانے کے لیے بجھوا دیئے گئے ہیں۔

ملتان کے خواجہ سر اؤں سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا گیا تو   بلال عرف بلالی نے کہا کہ پیدائش سے موت تک احسا س کمتری اور محرومی کی زندگی بسر کر تے ہیں ۔اب حکومت نے سپریم کورٹ کے احکامات پر سوچا بھی تو اتنی دیر ہو گئی کہ 2018 میں الیکشن کا حصہ نہیں بن سکتے ہیں۔یہی کام بروقت کر لیا جاتا تو آج ہزاروں خواجہ سرا باعزت زندگی بسر کرنے کے ساتھ پاکستان کے دیگر شہریوں کی طرح سر اٹھا کر اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکتےتھے۔تمام دعوؤں کے باوجود ہمیں جان و مال کا تحفظ حاصل نہیں ہے کہیں شنوائی نہیں ہوتی ہے،اچھوت تصور کیا جاتا ہے جن کے خونی رشتے نہ ہوں ان کا کوئی نہیں ہوتا ہے۔ نیہا علی کے مطابق بروقت شناختی کارڈبن جاتے تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ہمارے حقوق کے نام پر صرف احسان کیا جا رہا ہے ہمارا مقدر صرف ناچنا،گانا اور دو وقت کی روٹی کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھانا ہی ہے۔

اس معاشرے میں ماں باپ جب بے یار ومددگار چھوڑ دیتے ہیں تب زمانے کی ٹھوکریں موت تک ساتھ دیتی ہیں کسی کو شکایت کریں تومذاق اڑایا جاتا ہے حتیٰ کہ پولیس تک بات نہیں سنتی ہے۔جائیں تو کہاں جائیں۔ صنم جان کے مطابق چیف جسٹس جب حکومت کو ہماری شناخت کا پابند بنا رہے تھے تب شناختی کارڈز کی فراہمی کا وقت بھی مقرر کرتے حقوق کے تحفظ کا بھی حکم دیتے تاکہ زندگی میں پہلی بار قومی دھارے میں زیادہ سے زیادہ خواجہ سرا شامل ہو سکتے ۔بہت خوشی ہوتی اگر اس مرتبہ ووٹ کاسٹ کرسکتے تو پھر تو نجانے کب الیکشن ہوں۔ دیدار نے کہا کہ ہمارے حقوق ملیں گے تو ہی ہماری حفاطت ممکن ہو سکے گی اور لوگ شاید ہمیں بھی انسان سمجھنے لگ جائیں ۔

کاش ہم 2018 کے الیکشن میں ووٹ ڈال کر حق رائے دہی استعمال کر سکتے تو اس سے بڑھ کرکوئی خوشی کا مقام نہ آتا پھر بھی جو خواجہ سرا ووٹ  ڈالیں گے ان کی حوصلہ افزائی کریں گے اورخواجہ سرا امیدواروں کا بھی ساتھ دیں گے ، ملک پاکستان میں تمام شہریوں کو برابر کے حقوق حاصل ہیں اور انتخابات میں اپنی رائے کا اظہار خواجہ سراؤں کا بھی بنیادی حق ہے اس لیے اگر انہیں بھی یہ حق رائے استعمال کرنے کا موقع فراہم کردیا جائے تو مخلوق انسانی کے اس طبقہ میں بھی خود اعتمادی پیدا کی جاسکتی ہے۔

About Author

Leave A Reply