اولیاء کی دھرتی ملتان “تبدیلی” کی حوائوں کی منتظر

0

مدینہ الاولیا ملتان اپنی قدامت ، تاریخ اور ثقافتی لحاظ سے منفرد حیثیت رکھتا ہے ، سیاسی حوالے سے بھی ملک کے قد آور سیاستدانوں کا تعلق اسی شہر سے ہے جن میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی، وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی اور سینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی  و دیگرشامل ہیں ۔

ملتان کی ترقی کے دعوے ہر دور حکومت میں ہوتے آئے ہیں لیکن اس شہر میں سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے علاوہ کسی سیاستدان نے کوئی قابل ذکر کام نہیں کروائے ۔الیکشن 2018 سے قبل پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے 100 روزہ پلان میں ملتان کی ترقی اور جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے اور ملتان کو صوبائی مرکز قرار دینے کے وعدے اور اعلانات ہوئے لیکن 100 روزہ پلان کے دوران کئے گئے وعدے اور اعلانات محض ہوائی باتیں ہی ثابت ہوئے ہیں۔

تبدیلی سرکار نے ملتان میں سول سیکرٹریٹ کے قیام کے اعلانات کئے ہیں لیکن اس پر آج تک عملدار نہیں ہو پایا۔ملتان سمیت جنوبی پنجاب اور بلوچستان تک کے مریضوں کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے والے نشتر ہسپتال کی توسیع اور نشتر ہسپتال فیز ٹو کے منصوبے تاحال زیر التوا ہیں۔

ملتان میں ڈسٹرکٹ ہیڈ  کوارٹراسپتال، گھنٹہ گھر میں میوزیم کے قیام کا منصوبہ بھی پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ پایا ۔ جنوبی پنجاب کا سب سے بڑا اور تاریخی شہر ہونے کے باوجود شہریوں کے لئے پینے کے صاف پانی کا مسئلہ آج تک حل نہیں ہوسکا شہر میں 56 سے زائد واٹر فلٹریشن پلانٹ بند پڑے ہیں جس کی وجہ سے شہری پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں واسا واٹر سپلائی سسٹم ناکارہ ہوچکا ہے جس کی وجہ سے گندہ اور آلودہ پانی واٹر سپلائی لائنوں میں مکس ہورہا ہے جس سے لوگ ہیپاٹائٹس سمیت دیگر بیماریوں میں مبتلا ہور ہے ہیں لیکن تبدیلی سرکار نے شہر میں ابھی تک شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے اقدامات تک نہیں کئے ۔

شہر میں سیر و تفریح کے لئے پارکس کی حالت زار قابل رحم ہے متعدد پارکس کے جھولے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر بند پڑے ہیں جبکہ کئی پارکس کی چار دیواریاں بھی ٹوٹ پھوٹ چکی ہیں ۔شہریوں کی تفریح کے لئے ملتان میں سفاری پارک کے قیام کا منصوبہ بنایا گیا تھا اور اس کے لئے مویشی منڈی کی اراضی بھی حاصل کر لی گئی تھی لیکن نہ تو سابق حکومت نے اس منصوبے پر توجہ دی نہ ہی تبدیلی سرکار نے اس منصوبے کو مکمل کرنے کے لئے کوئی اقدامات کئے ہیں جس کی وجہ سے فیملیز کے لئے تفریح کی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔

ملتان میں سیف سٹی پراجیکٹ کا منصوبہ بھی تاحال فائلوں کی نذر ہے جس کی وجہ سے شہری چوروں اور ڈکیتوں کے رحم و کرم پر ہیں۔ سیاسی رہنما ظہور احمد دھریجہ کا کہنا ہے کہ ملتانیوں کو الیکشن کے دوران سب سے بڑا لولی پاپ الگ صوبے کے قیام کا دیا گیا تھا لیکن 100 روز گزرتے ہیں تبدیلی سرکار نے  اپنا موقف تبدیل کرلیا ہے ، اپنا صوبہ اپنا اختیار کا نعرہ لگانے والی حکومت نے صوبے کے معاملے کو پس پشت ڈال کر ملتان میں سول سیکرٹریٹ کے قیام کا اعلان کیا ہے جس پر عوام میں بے چینی کی لہر پائی جاتی ہے ان کا کہنا ہے کہ الگ صوبے کے قیام کے علاوہ انہیں کوئی آپشن قبول نہیں ہے۔

سرائیکی رہنما مظفر خان مگسی کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کو صوبے کی امید پر ووٹ دیے تھے لیکن اب حکومت کی جانب سے اکثریت نہ ہونے اور باقی جماعتوں کے ساتھ اتفاق رائے کے بیانات نے تبدیلی کے نعروں کی قلعی کھول دی ہے اگر صوبہ کا قیام عمل میں نہ آیا تو پی ٹی آئی کو اس خطے میں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا ۔سینئر تجزیہ نگار شاکر حسین شاکر کا کہنا ہے کہ ملتان کو بگ سٹی قرار دینے کے اعلان پر عملدرآمد نہ ہونا باعث تشویش ہے تاہم حکومت کی جانب سے سول سیکرٹریٹ کے قیام کا اعلان خوش آئند ہے ۔ سماجی کارکن سالار بلوچ کا کہنا ہے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سے انہیں بہت سے امیدیں وابستہ تھیں لیکن جس طرح 100 روزہ پلان کا حشر ہوا ہے اس سے انہیں مایوسی کا سامنا ہے اور ہم یہ کہنے حق بجانب ہیں کہ تبدیلی سرکار کی تبدیلی ملتان کو نہیں چھو سکی۔ایم پی اے پاکستان تحریک انصاف ندیم قریشی کا کہنا ہے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت صوبے کے قیام سمیت دیگر تمام ترقیاتی منصوبے مکمل کرکے اپنے تمام وعدے پورے کرے گی ہم عوام کو تبدیلی لاکر دکھائیں گے ۔

About Author

Leave A Reply