الیکشن 2018: ایبٹ آباد میں “یونیورسل” حلقہ بندیوں نے اہم سیاستدان میدان سے باہر کر دیے نوید اکرم عباسی

0

ایبٹ آباد میں نئے حلقہ بندیوں سے جہاں ملکی سطح کے مقبول سیاستدان سردار مہتاب عباسی اور بابا سردار حیدرزمان سیاست سے دست بردار ہوئے یا کروائے گئے ؟وہاں ہی خواتین امیدواروں کی سیاسی جماعتوں نے صرف خانہ پری کیلئے انٹری ڈالی ہے۔
پاکستان میں 25 جولائی2018 کو جہاں عوام کو قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر حق رائے دہی استعمال کرنے دیا جائے گا وہاں اس بار اس عمل سے پہلے ہی کچھ ایسے عوامل شروع  ہوگئے جن سے عوامی تاثر بننا شروع ہو گیا کہ شاید یہ عمل 25 جولائی سے پہلے ہی کہیں مکمل ہو گیا ہے اور کاغذی کاروائی پوری کرنے کیلئے قومی وسائل کا بے دریغ استعمال کر کے 26 کو اعلان کیا جائے گا کہ کون کون لوگ ان کے حقیقی نمائندے بن کر اسمبلی کے اندر جائیں گے ۔

اس تاثر کو عوام کہتے ہیں کہ تقویت اس طرح بھی ملتی ہے کہ ضلع ایبٹ آباد کی آبادی کے لحاظ سے پہلے بھی دو سیٹیں تھیں اور نئی حلقہ بندیوں میں بھی دو ہی رہیں مگر عوامی رائے اور امیدواروں کا اعتراضات میں بھی موقف کہ مبینہ طور پر اسی حلقہ سے  (ر)سردار رضا آف نملی میرا کا بھی تعلق ہے جنہوں نے حلقہ PK-37سےP.T.I   امیدوار اپنے چچا زاد بھائی و بہنوئی سردار وقار نبی اور اپنے قبیلہ کو قائدہ دینے کے لیے پرانی حلقہ بندیوں کو توڑ کر قومی اسمبلی کے حلقوں کی غیر منصفانہ تقسیم کروا کر نہ صرف حلقہ کے ترقیاتی منصوبوں میں مشکلات ڈالیں بلکہ عوام کو تعصب کی سیاست میں دھکیل دیا اور شاید آنے والے دنوں میں اسکا فائدہ نہ تو عوام کو اور نہ انکی سیاست کو مل سکے گا بلکہ نفرتوں کی خلیج وسیع ہو گئی ۔

   این اے 17 ماضی میں ضلع ایبٹ آباد کا  حلقہ ہوا کرتا تھا جو ایبٹ آباد شہر اور سرکل بکوٹ کے پہاڑی علاقوں پر مشتمل تھا ،جہاں سے سردار مہتاب عباسی اور امان اللہ جدون جیسے ہزارہ کے نامور سیاسی رواداری کے حامل شخصیات و گھرانے حصہ لیتے تھے، اس بار سردار مہتاب احمد عباسی کو نئے حلقوں الیکشن کمیشن کی سیاسی چال بازیوں اورپارٹی اور گھر کے اندر سے مشکلات کے باعث الیکشن کی سیاست سے باہر ہونا پڑا اور جو لوگ وقتی طور پر خوشی کے شادیانے بجا رہے ہیں، آنے والے وقتوں میں عوامی رائے ہے کہ شاید ہی ہزارہ میں سردار مہتاب احمد عباسی کے پایہ کا کوئی لیڈر سامنے آئے پھر وہ کہتے پھریں گے “تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد”۔

   این اے سے این اے 15 بنا کر اس کو مکمل پہاڑی سرکل گلیات لورہ اور بکوٹ پر مشتمل بنا دیا گیا ہے۔حلقہ این اے 18   میں جہاں دو بڑے قبیلے سردار کڑلال اور عباسی آباد ہیں جبکہ دیگر قبائل میں اعوان ،سید ، چوہدری ،راجہ اور دیگر بھی موجود ہیں جبکہ پرانے NA-18 کوNA-16 بنا کر ایبٹ آباد شہر حویلیاں شہر اور سرکل شیروان پر مشتمل حلقہ بنا دیا گیا ۔اب صورت حال یہ ہے کہ اس حلقہ سے تحریک صوبہ ہزاہ کہ قائد بابا سردار حیدر زمان نے نہ صرف الیکشن سے دست برداری کی بلکہ تحریک بھی سردار گوہر زمان کے حوالے کر کے کنارہ کشی اختیار کر لی چونکہ بابا حیدر زمان کا قبیلہ کڑلال ہے مگر دیگر تمام قبائل بھی انکو اپنا قائد و سردار بزرگ راہنما مان کر وہی عزت دیتے ہیں جو انکا حق ہے۔

 اسی طرح حلقہ سے سردار مہتاب احمد عباسی اور مرتضی جاوید عباسی سابقہ ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کو ایک جگہ جمع کر کے مسلم لیگ کیلئے مشکلات پیدا کر کے سردار مہتاب احمد عباسی کی سیاسی جدو جہد روک کر مرتضی جاوید عباسی کو مسلم لیگ کا ٹکٹ مل گیا جو کہ عوامی حلقوں میں بطور عام سیاسی کارکن مقبول ہیں اور تعصب کی سیاست پر اگر ووٹ پڑتے ہیں تو عباسی قبیلہ کی مجبوری بن چکے ہیں جبکہ انکے مد مقابل کڑلال قبیلہ کی معروف شخصیت سنجیدہ اور شرافت کی سیاست کے علمبردار سابقہ ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی سردار یعقوب خان کو P.T.I کا ٹکٹ نہ مل سکا تو وہ آزاد حیثیت میں جیپ کے نشان پر حصہ لے رہے ہیں جبکہ P.T.I نے اس حلقہ سے ایبٹ آباد شہر سے تعلق رکھنے والے ائیر مارشل اصغر خان مرحوم کے فرزند علی اصغر خان کو ٹکٹ دیا جو کہ شریف النفس پڑھے لکھے امیدوار تو ہیں مگر عوامی حلقے رائے دیتے ہیں کہ چونکہ یہ الیکشن مکمل تعصب کی سیاست بن چکے ہیں نظریات الیکٹبلز جنکو لوٹے بھی کہا جاتا ہے کے مرہون منت ہیں اس لیے مقابلہ کی دوڑ میں درجنوں امیدواروں میں سے مسلم لیگ ن کے مرتضی جاوید عباسی آزاد امیدوارسردار یعقوب خان اور P.T.I کے علی اصغر خان کے مابین سخت مقابلہ ہو گا جبکہ صوبائی اسمبلی میں PK-36 پر آزاد امیدواروں سردار فرید خان جو کہ سردار مہتاب عباسی کے چچازاد بھائی بھی ہیں مسلم لیگ کا ٹکٹ واپس کرکے جیپ کے نشان پر ہیں۔

متحدہ مجلس عمل کے جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے اعلی تعلیم یافتہ معزز گھرانے سے اور وسیع حلقہ احباب سے تعلق رکھنے والے ساجد قریش عباسی اور پاکستان تحریک انصاف کے نذیر احمد عباسی جو کہ یونین کونسل بکوٹ سے 5 بار ممبر ضلع کونسل اور ایک نڈر شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں کے مابین سخت مقابلہ ہے جبکہ PK-37پر درجن بھر امیدواروں میں اصل مقابلہ آزاد امیدوار سردار ادریس خان جو P.T.I کا ٹکٹ نہ ملنے پر جیپ کے نشان پر ہیں اس حلقہ سے دو با رممبر صوبائی اسمبلی رہ چکے ہیں سفید پوش جنکا ابھی تک ابیٹ آباد میں ذاتی گھرتک نہیں بے شمارالزامات کا سامنا کرنے کے باوجود ہر وقت اپنے عوام کے لئے کام کرنے کی وجہ سے عوام میں مقبول ہیں۔ مسلم لیگ کے سردار اورنگزیب نلوٹھہ جو سابقہ ممبر صوبائی اسمبلی4 مرتبہ منتخب ہو چکے ہیں۔متحدہ مجلس عمل کے عبدلرزاق عباسی جنکی الیکشن مہم صرف الیکشن کے دنوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ سال بھر عوام کی خوشی غمی میں شریک رہتے ہیں امیر ضلع جماعت اسلامی بھی ہیں ۔اور عوامی رائے کہ پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈر سردار رضا خان کے بہنوئی سردار وقار نبی جنکے والد سابقہ ممبر صوبائی اسمبلی رہ چکے ہیں اور یہ خود ڈسٹرکٹ اسمبلی کیلئے بلا مقابلہ منتحب ہوئے تھے مگر بعد ازاں انکی آبائی ویلج کونسل نملی میرا جستر میں ضمنی الیکشن پر باوجود اسکے الیکشن میں سرکاری رکاوٹوں کے انکے گروپ کے مخالف امیدوار بھاری اکژیت سے جیت گیا تھا ۔

اس حلقہ سے ان امیدواروں کے علاوہ الیکشن کمیشن کے رولرز کو سامنے رکھ کر سیاسی جماعتوں نے صرف خانہ پری کیلئے جنرل سیٹ پر ایسی خواتین کو ٹکٹ جاری کیے جنکا اس حلقہ میں کوئی اثرورسوخ نہیں ان میں NA-15 اورPK-36 پر پاک سر زمین پارٹی PSPکی نصرت انجم ۔ANP کی روبینہ زاہدPK-37 پر رابعہ گل قومی وطن پارٹی رخسانہ بی بی عوامی نیشنل پارٹیANP بیلٹ پیپر پر انتخابی نشان ڈولفن مچھلی لالٹین چراغ کے نشان پر موجود ہوں گی جبکہ علاقائی سطح پران پارٹیوں کا کوئی نام و نشان نہیں الیکشن کمیشن کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ جن پارٹیوں نے خانہ پری کیلئے خواتین کو بطور شو پیس میدان میں اتارا ہے انکے ووٹ کے تناسب سے نئے رولزز کے مطابق انکی سزاء بھی ضمانت ضبطی کے پارٹی لیڈر کوبھی سزاء ہونی چاہیے تا کہ آئندہ خواتین کے نام پر خواتین سے مذاق بند ہونا چاہیے حلقہ NA-15 اورPK-36.37 میں عوامی سروے کے مطابق ٹکٹ ہولڈراور مضبوط قبائل کے نام پر ووٹ کے علاوہ مذہبی حلقوں کی طرف سے انتخابی نشان کرین اور استری والے امیدوارہر جگہاپنی موجودگی ظاہر کرکے 5سے10ہزارووٹ لے جانے میں کامیاب ہوں گے اور انکے ووٹ انتخابی نتائج پر اثر انداز بھی ہو سکتے ہیں ۔

اسی طرح کہ اگر کچھ لوگوں کو مبینہ طور پر سرکاری امداد یا ذاتی اثر ور سوخ سے قبل از پولنگ یا بعداز پولنگ8سے 10ہزارووٹ مل جائیں اور انکی الیکشن مہم میں بیرون حلقہ سے الڑا ماڈرن خواتین بھی پہاڑی بیلٹ پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ابیٹ آباد میں کالج گراونڈ میں عمران خان کے جلسہ عام میں بھی عوام کی کم حاضری سے امیدوار کسی حد تک پریشان ضرور ہیں اور گلیات میں ایک اور عمران خان کے جلسہ سے توقعات وابسطہ کیے ہیں ۔الیکشن کے نتائج کچھ بھی ہوں دعا ہے کہ اللہ پاکستان کو سلامت   رکھے اور پر امن انتخابات کا انعقاد ہو۔

About Author

Leave A Reply