آزادی صحافت کا عالمی دن: پاکستان میں خواتین صحافیوں کی جدوجہد ومسائل -ماریہ اسماعیل

0

تین مئی پاکستان سمیت پوری دنیا میں آزادی صحافت کے عالمی دن کےطور پر منایاجاتا ہے، جس کامقصد پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی میں پرنٹ والیکڑونک میڈیا کودرپیش مشکلات  اورصحافیوں کی زندگیوں کودرپیش خطرات سے متعلق دنیا کوآگاہ کرنا  ہے۔آزادی صحافت پر حملوں سے بچاٶ کے لیے حکمت عملی مرتب کرنا اور فرائض کی انجام دہی کرنے والے صحافیوں کے قتل اور زخمی  اور مختلف قسم کے تشدد کا سامنہ کرنے والوں سے اظہاریکجہتی کے طور پرمنایاجاتا ہے۔

اس دن کا آغاز 1991سے ہوا مگر دنیابھر میں پریس فریڈیم ڈے کے منانے کا آغاز 1993میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے فیصلے کے بعد سے عمل میں آیا ۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلٹس کے مطابق پاکستان 2001 سے اب تک 143 سے زائد صحافیوں کو شہید کیا گیا، جبکہ اس دھنی تعداد میں صحا فیوں کو زخمی یا مختلف قسم کے تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔

ہم آج کے دن خواتین صحافیوں کو درپیش مسائل پر فوکس کر رہے ہیں۔ اس وقت کراچی سمیت ملک کے مخلتف شہروں  میں ایک اچھی تعداد خواتین  صحافیوں کی کام کررہی ہیں جو فیلڈ رپورٹر، نیوز روم، اینکرس اور نیوزکاسٹرز سمیت دیگر جس میں بیوروچیف بھی شامل ہیں ، کے چور پرکام کرتی ہیں یہ تینوں زبان اردو، انگریزی اور سندھی ، جبکہ پشتو سرائکی  میڈیا یا میں  بھی کام کرتی  ہیں ۔ہم نے ان  سےاپنےکام کے دوران پیش آنے والی مشکلات کے بارےمیں پوچھا۔سندھی میڈیا میں خواتین رپورٹرز کم ہیں مگر وہاں دیگرشعبوں میں خواتین موجود ہیں۔

آج کل خاتون صحافی ہرروز ایک پل صراط سے گذرتی ہے۔ یہ کہنا تھا ایک انگریزی اخبار کی سینئر صحافی خاتون کا ۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کا نام سنتے ہی ذہن میں ایک رنگین دنیا کا تصور کیا جاتا ہے، جس میں ایک نہایت ہی روشن خیال معاشرہ، لاکھوں روپے تنخواہ اوراچھے اوربرے کاتصور نہیں ہوتاہے  اور آپ کو ایسی ہی پرتعیش زندگی گزارنے والے شخص کے زاویے کے طور پرپرکھا جاتا ہے ۔ خاتون صحافی کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ  سننے کوملتا ہے تم لوگوں کی تو موج ہےتم بہت ایونٹ اٹینڈ کرتی ہوتی ہو۔

 انہوں نے کہاکہ میری ذاتی زندگی کیاہے اور میری نوکری کاحصہ کیاہے جب کہ حقیقت بالکل اس کے برعکس ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کہ سب سے زیادہ خواتین انگریزی میڈیا میں کام کرتی ہیں اور وہ بھی صبح کی شفٹ میں کوئی بھی رات کوکام کرنا پسند نہیں کرتی۔ انہوں نے کہاکہ میں اس بات سے متفق ہوں کے خاتون صحافی زیادہ تراپنے ادارے میں ہراساں ہوتی ہے ۔انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ مجھے پتہ ہے کہ 2010میں  کام کی جھہ حراسمنٹ  کے خلاف قانون  پاس ہوا ہے اورہمارے ادارے میں برائے  نام کمیٹی ہے۔

  انہوں نے بتایا کہ ایک دن مجھے انتظامیا کی جانب سے لیٹر ملا کہ آپ اس وقت سے پہلے چلی جاتی ہیں اور کوئی  نیوز نہیں دیتیں اس پر میں نے اپنے ایڈیڑ سے بات کی توانہوں نے میرا ٹرانسفر سٹی صفحہ پر کردیا جس میں اب پرسکون ہوں۔

 حکومت نے 2010 میں خواتین کے تخفظ کا قانون  پاس کیاتھا جس کے تحت تمام ادارے قانونی طور پرپابند ہیں کہ وہ 3 رکنی  کمیٹیاں تشکیل دیں گے اور اس میں درخواست پر 40دنوں میں فیصلہ کرنا ہوگا اس قانون میں نہ صرف سزائیں واضح طور پردرج ہیں بلکہ اس میں تحققیات کاطریقہ کار بھی بتایاگیاہے۔

ایک چینل صحافی خاتون نے کہاکہ مجھے قانون  کا علم ہے اور ادارے میں جو کمیٹی بنائی گئی  ہے اس کی سربراہ ایک خاتون صحافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب میں اخبار میں کام کرتی تھی اس وقت ہراسمنٹ کا شکار ہوئی جس کی وجہ یہ تھی کہ میرا کپمیوٹر شیئرنگ پر ہوتا تھا۔سب سے پہلے میں اس بات کونظرانداز کیا ہے پھر جب بات آگے بڑھی توزبانی طور پر ایڈیٹرسے شکایت کی مگراس میں کچھ نہیں ہوا تو تحریری طور پردرخواست دی۔

خاتون صحافی نے بتایاکہ اس پرایک باقاعدہ کمیٹی بنائی گئی جس نے اس صاحب کو بلایا (نام نہیں بتایا)جس نے اپنا جرم قبول کیا اور معافی مانگی مگر ادارے نے اس کی معافی کی درخواست قبول نہیں کی بلکہ اس کونوکری سے برطرف کردیا، مگر میں بہت عرصے تک ذہنی مشکلات کاشکار رہی۔

 کمیٹی کے کام کرنے کے حوالے سے جب جیوگروپ کی کمیٹی سے رابطہ کیاگیا تو اس کی سربراہ صحافی عظمیٰ الکریم نے بتایاکہ میڈیا میں ایسی صورتحال ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ حالات بہت خراب ہیں اور لڑکیاں کام نہ کریں ۔انہوں نے بتایا کہ جیوگروپ نے تو2005میں اس حوالے سے کیمٹی بناکر ایک مہم شروع کی تھی ۔ انہوں نے بتایہ کہ صرف لڑکیاں یاخاتون نہیں بلکہ مرد بھی درخواست دیتے ہیں۔

  ایک چینل میں کا کرنے والی صحافی جوکہ ایک آرٹسٹ، رپورٹر اوراینکر ہیں، نے  کہا کہ میں مختلف اداروں میں کام کرتی رہی ہوں اور مجھے معلوم ہے کہ قانون  پاس ہواہے مگر ہمارے ادارے میں کوئی کمیٹی نہیں ہے ۔مجھے ہراسان کیاگیا، اس کی شکایت میں نے صحافیوں کی تنظمیوں سے کی مگر اس پر ایکشن تو دورکی بات مجھے اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا۔

کراچی پریس کلب کے صدر امتیاز فاران سے جب رابطہ کیا گیاتو ان کاکہنا تھا کہ میں مختلف  اہم عہدوں پررہا ہوں مگر مجھے  اس طرح کی کوئی  بھی شکایت موصول نہیں ہوئی۔ کہ کسی ادارے میں خاتون صحافی کو ہراسان کیاگیاہو۔ان کاکہناتھاکہ اگر مسقبل میں ایسی کوئی  شکایت آئی  تو اس پرقانونی کاروائی بھی ہوگی اورکیمٹی بھی بنائی جائیگی ۔

انہوں  نے بتایہ کہ اس وقت پورے پاکستان میں سب زیادہ خواتین صحافی پریس کلب کراچی کی ممبر ہیں جوکہ ان کے گھرکی طرح ہے۔

کے یوجے کی وومن ورکنگ کی ممبران جس میں مونا صدیقی ، شیما صدیقی، فہمیدہ سمیت دیگر شامل ہے کابھی یہی کہنا تھاکہ اس قسم کی کوئی درخواست نہیں ملی ہے اگر آئی  تو اس خاتون کے ساتھ انصاف کیا جائیگا۔صحافی شازیہ حسن نے کہاکہ پریس کلب خواتین کادوسرا گھر ہے ابھی ایسی کوئی شکایت نہیں ملی ہے۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی نائب صدر شہربانو کاکہنا تھا کہ ہمیں مختلف فورم پر خواتین صحافی اپنے ساتھ پیش آنے والے مسائل پربحث کرتی ہے اس کو ہم حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اگرپی ایف یو جے کے پلٹ فارم پرتحریری طور پر ایسا مسئلہ  سامنے آئے تو ہم ہر طرح سے دیکھیں گے۔

 صحافی  خواتین کاکہناہے کہ عام طور پرجب بھی کسی خاتون صحافی کوحراساں کیے جانے کی شکایت داخل کی جاتی ہے تو اس کی ساتھی خواتین بھی اس سے دوری اختیار کرلیتی ہے جبکہ کردار کشی کوخاتون کے خلاف ایک آسان اور موثر ہتھیار کے طور پراستعمال کیاجاتاہے ۔

About Author

Leave A Reply